کے-الیکٹرک میں سنگین بحران: اکثریتی شیئرہولڈر KEH نے فوری بورڈ انتخابات کا مطالبہ کردیا
Good News for Karachi Electricity Consumers: Major Announcement by K-Electric
کراچی کی واحد بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے-الیکٹرک میں انتظامی بحران ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ کمپنی کے اصل اور اکثریتی شیئر ہولڈر KE Holdings (KEH) نے پہلی مرتبہ کھل کر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری نئے بورڈ انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ KEH نے اپنے باضابطہ خط میں واضح کیا ہے کہ وہ بالواسطہ طور پر کے-الیکٹرک کے 35.7 فیصد حصص کے مالک ہیں، اس لیے کمپنی کے اصل اور حقیقی اکثریتی شیئر ہولڈر وہی ہیں۔ KEH کے مطابق ال جومیع پاور کمپنی (Jomaih) صرف 18 فیصد جبکہ ڈینہم انویسٹمنٹ 12 فیصد حصص کی مالک ہے، لیکن اس کے باوجود یہ دونوں اقلیتی شیئر ہولڈرز خود کو مالک ظاہر کرکے کمپنی کے فیصلوں کو یرغمال بنا رہے ہیں۔
خط کے مطابق اقلیتی گروہ پچھلے تین سال سے مختلف قانونی ہتھکنڈوں کے ذریعے بورڈ انتخابات کو روک رہا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کا بورڈ نامکمل ہے اور موجودہ بورڈ کی مدت بھی چند ماہ قبل ختم ہو چکی ہے۔ KEH نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اقلیتی شیئر ہولڈرز کی جانب سے حاصل کیے گئے اسٹے آرڈرز کو کیمین آئی لینڈز کورٹ آف اپیل نے غلط طریقے سے حاصل کردہ قرار دیا ہے، لیکن اس کے باوجود کمپنی کی انتظامیہ نے نئے انتخابات کرانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ KEH کا کہنا ہے کہ کے-الیکٹرک جیسے اہم ادارے کو چند اقلیتی حصے داروں کے مفادات کی وجہ سے پوری طرح مفلوج کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
خط میں کے-الیکٹرک کی موجودہ سینئر مینجمنٹ پر بھی نہایت سخت تنقید کی گئی ہے۔ KEH نے کہا ہے کہ کمپنی کی مینجمنٹ حکومتی اداروں، NEPRA اور دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد کھو چکی ہے۔ ان کے مطابق ناقص حکمت عملی، غیر ضروری لابنگ، میڈیا کو غلط معلومات فراہم کرنا، غلط قانونی اقدامات اور کمزور آپریشنل کارکردگی نے کمپنی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ KEH کے مطابق موجودہ مینجمنٹ نے بورڈ کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور جان بوجھ کر نئے انتخابات کے عمل کو مؤخر کیا، جس سے بحران مزید گہرا ہو گیا۔
KEH نے اپنے خط میں یہ بھی واضح کیا کہ کے-الیکٹرک کراچی کی معیشت اور لاکھوں صارفین کے لیے نہایت اہم ادارہ ہے۔ اس حیثیت میں یہ کسی اقلیتی گروہ یا کمزور مینجمنٹ کے مفادات کی وجہ سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔ KEH نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) سے براہ راست اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں، نئے بورڈ انتخابات کروائیں، بورڈ کو قانونی طور پر مکمل کریں اور کمپنی کو پیشہ ورانہ بنیادوں پر چلانے کے لیے اقدامات کریں۔
اکثریتی شیئر ہولڈر کی جانب سے اس طرح کا کھلا اور سخت مؤقف سامنے آنا غیر معمولی ہے، اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کے-الیکٹرک میں جاری کشمکش ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اب صورتحال کا دارومدار اس بات پر ہے کہ SECP، PSX اور متعلقہ حکام اس معاملے پر کتنی جلدی اور کس نوعیت کے فیصلے کرتے ہیں، اور کیا کے-الیکٹرک کو وہ مستحکم قیادت مل پائے گی جو کراچی کے عوام اور صنعت کے لیے بہتر فیصلے کر سکے۔۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








