ہفتہ، 29-نومبر،2025
ہفتہ 1447/06/08هـ (29-11-2025م)

ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا، ڈی جی آئی ایس پی آر

29 نومبر, 2025 11:50

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ہمارے لئے اچھا دہشتگرد وہی ہے جو جہنم واصل ہو چکا۔

تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو ملکی سلامتی، بارڈر مینجمنٹ اور دہشتگردی کے خلاف جاری کارروائیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک 4,910 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں 206 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ اس سال مجموعی طور پر ملک بھر میں 67,023 آپریشنز کیے گئے، جن میں خیبر پختونخوا میں 12,857 اور بلوچستان میں 53,309 شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 1,873 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ کے حوالے سے سیکورٹی اداروں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ پاک افغان سرحد انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے۔ خیبر پختونخوا میں سرحد 1,229 کلومیٹر پر محیط ہے اور اس میں 20 کراسنگ پوائنٹس موجود ہیں۔ بارڈر پوسٹس کے درمیان فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنایا جائے اور ڈرون سرویلنس کی جائے تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے۔ خیبرپختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، جس کی وجہ سے آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے۔ دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، لیکن افغان طالبان پاکستان میں دہشتگردوں کی دراندازی کے لیے مکمل سہولت کاری کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان بارڈر سے متصل علاقوں میں مؤثر انتظامی ڈھانچہ بمشکل موجود ہے، جو گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے۔ ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ موجود ہے، جس کی سہولت کاری فتنہ آل خوارج کرتے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ اگر سرحد پار سے دہشتگردوں کی تشکیلیں آ رہی ہیں یا غیر قانونی اسمگلنگ اور تجارت ہو رہی ہے، تو اس کو روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟

انہوں نے کہا کہ لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اندرون ملک گھوم رہی ہیں، جو پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیٹ ورک کا حصہ ہیں اور خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کی سہولت کاری بند کریں۔ افغانستان میں دہشتگردی کے مراکز موجود ہیں، اور القاعدہ، داعش اور دیگر دہشتگرد تنظیمیں وہاں فعال ہیں، جو اسلحہ اور فنڈنگ حاصل کر کے پاکستان کے خلاف استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان نے ان کے سامنے تمام ثبوت رکھے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان رجیم کے ساتھ قابل تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کیا جائے۔ اگر تھرڈ پارٹی کے ذریعے میکانزم بنایا جائے تو پاکستان کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔ پاکستان کے موقف سے ثالث ممالک بھی مکمل طور پر آگاہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے حوالے سے طالبان رجیم کا دعویٰ کہ وہ پاکستانی ہیں، مہمان ہیں یا ہجرت کر کے آئے ہیں، غیر منطقی ہے۔ اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو پاکستان کے حوالے کیے جائیں تاکہ قانون کے مطابق کارروائی ہو۔ مسلح افراد کو مہمان نہیں کہا جا سکتا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ SIGAR کی رپورٹ کے مطابق امریکی افواج انخلا کے دوران 7.2 بلین ڈالرز کا فوجی ساز و سامان افغانستان چھوڑ گئی۔ افغانستان کا رجیم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہے۔ طالبان رجیم نے Non State Actor پالے ہوئے ہیں جو خطے کے دیگر ممالک کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ طالبان کا طرز عمل ایک ریاست کی طرح ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوحہ مذاکرات میں افغان طالبان نے بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، مگر عمل نہیں ہوا۔ افغان طالبان رجیم تمام قومیتوں کی نمائندگی نہیں کرتا اور 50 فیصد خواتین کی نمائندگی نہیں۔ پاکستان کا مسئلہ افغان مہاجرین سے نہیں بلکہ افغان طالبان رجیم کے طرز عمل سے ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے۔ خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے۔ پاکستان کے لیے اچھے یا برے دہشتگرد میں کوئی تفریق نہیں، اور اچھا دہشتگرد وہ ہے جو جہنم واصل ہو چکا۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے بتایا گیا کہ 2024 میں 366,704 جبکہ 2025 میں 971,604 افراد واپس بھیجے جاچکے ہیں، جن میں نومبر میں 239,574 افراد شامل ہیں۔

بھارت کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں خود فریبی کی سوچ رکھنے والی قیادت اجارہ داری رکھتی ہے۔ انڈین آرمی چیف کے بیان کہ آپریشن سندور کے دوران ایک ٹریلر دکھایا گیا، خود فریبی کی مثال ہے۔ جس ٹریلر میں سات جہاز گر جائیں، 26 مقامات پر حملہ ہو اور ایس-400 بیٹریاں تباہ ہوں، وہ بھارت کے لیے حقیقت میں horror فلم بن جاتی ہے۔ سندور میں ہوئی شکست پر بھارت کے بار بار کے جھوٹے بیانات عوامی غم و غصے کو تحلیل کرنے کے لیے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی ملک افغان طالبان رجیم کو فوجی ساز و سامان مہیا کرتا ہے تو یہ دہشتگردوں کے ہاتھ لگے گا۔ پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہریلا بیانیہ بنانے والے X اکاؤنٹس بیرون ملک سے چلتے ہیں۔ بیرونی ہاتھ پاکستان کی سیاست اور دیگر معاملات میں زہر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے ملکی انسداد دہشتگردی اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ تمام حکومتیں اور سیاسی جماعتیں نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہیں۔ بلوچستان میں ایک مربوط نظام وضع کیا گیا ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں اس کی کمی نظر آتی ہے۔ ضلعی، ڈویژنل اور صوبائی سطح پر سٹیرنگ، مانیٹرنگ اور implementation کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ڈیزل کی اسمگلنگ دہشتگردی کی مالی معاونت میں استعمال ہوتی تھی۔ آرمی، ایف سی اور صوبائی حکومت کے کریک ڈاؤن سے پہلے روزانہ 20.5 ملین لیٹر ڈیزل اسمگل ہوتا تھا، جو اب 2.7 ملین لیٹر پر آ چکا ہے۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم BLA اور BYC کو جاتی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے باعث بلوچستان کے 27 اضلاع (86 فیصد حصہ) پولیس کے کنٹرول میں لائے جا چکے ہیں۔ صوبائی حکومت اور سیکورٹی فورسز مقامی لوگوں سے مسلسل انگیجمنٹ کر رہے ہیں، جس کے تحت روزانہ 140 اور ماہانہ 4,000 انگیجمنٹس ہو رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ان حکومتی اقدامات کے بغیر دہشتگردی پر قابو پانا ممکن نہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔