منگل، 10-فروری،2026
منگل 1447/08/22هـ (10-02-2026م)

خونی رشتوں کی تصدیق کے بغیر شناختی کارڈ کس طرح بنائیں؟ بڑی مشکل آسان ہوگئی

11 دسمبر, 2025 10:54

نادرا نے ایسے شہریوں کے لیے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں جو شناختی کارڈ بنوانا چاہتے ہیں لیکن ان کے کوئی خونی رشتہ دار موجود نہیں ہیں۔

 عام طور پر شناختی کارڈ بنانے کے لیے خاندان کے کسی فرد کی بائیو میٹرک تصدیق ضروری ہوتی ہے، جیسے والد، والدہ، بھائی یا بہن۔ لیکن کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کے قریبی رشتہ دار یا تو وفات پا چکے ہیں یا ان سے رابطہ ممکن نہیں ہوتا۔

نادرا کے مطابق ایسے شہری اب بھی شناختی کارڈ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ایک مخصوص طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ سب سے پہلے درخواست گزار کو ایک تحریری درخواست جمع کروانی ہوگی۔ اس کے ساتھ یونین کونسل، میونسپل کمیٹی یا کنٹونمنٹ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ دینا ہوگا۔ اگر برتھ سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو تو شہریت یا نیچرلائزیشن سرٹیفکیٹ بھی قابل قبول ہے۔

اس کے علاوہ نادرا کے فراہم کردہ فارمیٹ میں ایک حلف نامہ درکار ہوگا۔ یہ حلف نامہ کسی بھی ایسے شخص سے تصدیق شدہ ہونا چاہیے جو سی این آئی سی یا این آئی سی او پی رکھتا ہو۔ یہ شخص درخواست گزار کے لیے بطور گواہ پیش ہوگا اور اس کی بائیو میٹرک تصدیق بھی کی جائے گی۔ درخواست فارم کی باقاعدہ تصدیق بھی ضروری ہے۔ اگر مزید دستاویزات موجود ہوں تو وہ بھی جمع کروائی جا سکتی ہیں تاکہ تصدیقی عمل آسان ہو سکے۔

نادرا نے وضاحت کی ہے کہ ایسے کیسز میں اضافی وقت لگ سکتا ہے کیونکہ ہر قدم احتیاط سے مکمل کیا جاتا ہے۔ ادارے کے مطابق گواہوں کی ترجیح کے لیے بھی ایک فہرست تیار کی گئی ہے۔ پہلی ترجیح رشتہ داروں کو دی جائے گی، جیسے پھوپھی، ماموں، خالہ، کزن یا دیگر قریبی رشتے۔ اگر کوئی رشتہ دار موجود نہ ہو تو دوسری ترجیح عام پاکستانی شہریوں کو دی جائے گی جو درخواست گزار کو ذاتی طور پر جانتے ہوں اور اسی علاقے کے رہائشی ہوں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔