اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا، بیرسٹر گوہر

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر ایک مائنس ہوا تو اس کے بعد ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی میدان سے کسی ایک جماعت یا رہنما کو باہر نکالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا ردعمل پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ "یہ کوئی کاروباری دنیا نہیں جہاں ایک آپشن ختم کرو تو دوسرا محفوظ رہتا ہے، اگر ایک کو مائنس کیا گیا تو پھر کوئی بھی نہیں بچے گا، حالات سب کے لیے بے قابو ہو جائیں گے۔”
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں پر واٹر کینن کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس حد سے گزری ہوئی کارروائی کے بعد اب بہت ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، جو ملنے کی کوشش کرتا ہے اس پر تشدد آمیز کارروائی کر دی جاتی ہے۔ اگر کوئی دو گھنٹے مزید بیٹھا بھی رہتا تو اس سے ریاست یا قوم کو کیا نقصان ہونا تھا؟
پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ملاقاتوں کی بندش کا جواز خان صاحب کی ایک ٹویٹ کو بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بشریٰ بی بی کی فیملی کو بھی ملاقاتوں سے روکے جانے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔
ان کے مطابق اگر اسی طرز کا رویہ برقرار رہا تو صورتحال ایسی سمت جا سکتی ہے جسے پھر کوئی کنٹرول نہیں کر سکے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی نظام کو چلانے اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لیے سسٹم کا حصہ ہے، اور اس وقت وہ تین کروڑ عوام کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے وفاقی اکائیوں کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آخر پی ٹی آئی پر کون سی پابندی لگانے کی تیاری کی جا رہی ہے، جبکہ ابھی تک ان کا انتخابی سرٹیفکیٹ بھی منظور نہیں کیا گیا۔
بیرسٹر گوہر کا مزید کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو چند ہفتوں کے اندر اندر حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










