نہ بیعت کریں گے اور نہ ہی ملک کو تمھارے رحم و کرم پر چھوڑیں گے، مولانا فضل الرحمان

نہ بیعت کریں گے اور نہ ہی ملک کو تمھارے رحم و کرم پر چھوڑیں گے، مولانا فضل الرحمان
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ نہ بیعت کریں گے اور نہ ہی ملک کو تمھارے رحم و کرم پر چھوڑیں گے۔
تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں ایک مدرسے میں حفظِ قرآن کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے طلبہ کو مبارکباد دی اور امتِ مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے دعا کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت 18 سال سے کم عمر شادی کو زنا بالجبر قرار دینے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے، جبکہ اسی اسمبلیوں نے بے راہ روی کو فروغ دینے والے قوانین منظور کیے۔
جے یو آئی سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسے قوانین بنائے جائیں تو پاکستان کو اسلامی جمہوریہ کہنا کس حد تک درست ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمران نکاح کو مشکل اور فحاشی کو آسان بنا رہے ہیں، جو اسلامی اقدار کے سراسر منافی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یورپ میں جنس کی تبدیلی اور انسان کو جانور بنانے جیسے تصورات پائے جاتے ہیں اور افسوسناک امر یہ ہے کہ حکمران طبقہ انہی نظریات کو یہاں نافذ کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے حکمرانوں کے طرزعمل کو مشکوک قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اللہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جے یو آئی پاکستان کو حقیقی اسلامی جمہوریہ بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور اس راہ میں قربانیوں سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کو چند حکمرانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو دھاندلی اور خرید و فروخت کے ذریعے اقتدار میں آئے۔
مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا کہ انتخابی نتائج میں عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کیا گیا، جبکہ ووٹ ایک امانت اور بیعت ہے جسے دھوکہ، جھوٹ اور پیسے کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسے حکمرانوں کو وہ تسلیم نہیں کرتے اور ان کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔
انہوں نے 26 ویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے مذاکرات کے ذریعے حکومت کے غلط عزائم ناکام بنائے اور کئی شقوں کو درست کروایا، تاہم سود کے خاتمے، دینی مدارس کی رجسٹریشن، وفاقی شرعی عدالت کو مضبوط بنانے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر ایک سال گزرنے کے باوجود کوئی عملدرآمد نہیں ہوا، جو حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کے پاس آئینی ترامیم کے وقت دو تہائی اکثریت نہیں تھی اور ارکان کو دباؤ، تشدد اور خرید و فروخت کے ذریعے ہاں پر مجبور کیا گیا۔
انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کسی ترمیم کو قبول نہیں کیا جائے گا جس میں جنس کی تبدیلی کو جائز اور 18 سال سے کم عمر نکاح کو جرم قرار دیا جائے۔
انہوں نے اقلیتوں کے کمیشن سے متعلق قوانین پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بعض شقوں کے ذریعے مخصوص گروہوں کو خفیہ راستہ دینے کی کوشش کی گئی، جسے جے یو آئی نے بروقت روک کر قانون میں ترمیم کروانے پر حکومت کو مجبور کیا۔
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ موجودہ حکمران یورپ کے غیر فطری اور حیوانیت پر مبنی تصورات کو پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، تاہم جے یو آئی ایسے کسی نظام یا حکمرانوں کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرے گی جو عوامی رائے کو بدل کر اقتدار میں آئے ہوں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









