جمعہ، 16-جنوری،2026
جمعرات 1447/07/26هـ (15-01-2026م)

دخترِ مشرق بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی، گڑھی خدا بخش میں جیالوں کی بڑی آمد، جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ قائم

27 دسمبر, 2025 09:52

گڑھی خدا بخش: سابق وزیر اعظم اور دخترِ مشرق بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر ملک بھر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش پہنچ رہے ہیں۔ برسی کے موقع پر راستوں اور مزار کے اطراف مختلف مقامات پر استقبالیہ کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں آنے والے کارکنوں کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے فریال تالپور کے ہمراہ مزارِ بینظیر بھٹو پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کی قبروں پر بھی پھول چڑھائے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی بھٹو خاندان کی قبور پر حاضری دی۔

برسی کے موقع پر سندھ حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز راٹھور نے بھی آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

بینظیر بھٹو کا شمار پاکستان کی اُن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے زندگی کا بڑا حصہ سیاسی جدوجہد میں گزارا۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، جبکہ ان کے دو بھائی مختلف واقعات میں جان سے گئے۔ اس کے باوجود بینظیر بھٹو نے آمریت، قید و بند اور جلاوطنی کے باوجود جمہوریت کی جدوجہد ترک نہ کی۔

بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کراچی گرامر اسکول سے حاصل کی، جبکہ ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے سیاسیات اور بین الاقوامی قوانین کی تعلیم مکمل کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو نے بیٹوں کے بجائے بینظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین نامزد کیا، جو بعد میں درست ثابت ہوا۔

1986 میں وطن واپسی پر بینظیر بھٹو کا تاریخی استقبال کیا گیا۔ 1988 کے انتخابات کے بعد وہ عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں، تاہم ان کی حکومت ڈیڑھ سال بعد ختم کر دی گئی۔ 1993 میں وہ دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہوئیں، لیکن 1996 میں ان کی حکومت ایک بار پھر برطرف کر دی گئی۔

طویل جلاوطنی کے بعد بینظیر بھٹو نے 2007 میں پاکستان واپسی کا اعلان کیا۔ کراچی میں ان کے استقبالی جلوس پر خودکش حملہ ہوا، جس میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے باوجود انہوں نے انتخابی مہم جاری رکھی۔

27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے کے بعد ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، جس میں وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ بعد ازاں انہیں گڑھی خدا بخش میں اپنے والد اور بھائیوں کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ہر سال کی طرح اس بار بھی ان کی برسی پر کارکنان اور رہنما انہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں اور ان کی جمہوری جدوجہد کو یاد کیا جا رہا ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔