وزیر اعلیٰ سندھ کا مفت دل کے علاج میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہ کرنے کا اعلان

بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کیے، وزیر اعلیٰ سندھ
کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت این آئی سی وی ڈی (نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیک ویسکولر ڈیزیز) کی گورننگ باڈی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں این آئی سی وی ڈی کی قانونی حیثیت بحال کرنے اور ادارے کی عوامی خدمت کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ مفت دل کے علاج میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ این آئی سی وی ڈی کے آپریشنل امور کے لیے 15.5 ارب روپے کی گرانٹ ان ایڈ کی منظوری دی گئی جبکہ مالی سال 2025-26 میں ادارے کو مزید 3.5 ارب روپے اضافی گرانٹ کی ضرورت ہوگی۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ این آئی سی وی ڈی کو موجودہ سال میں 4.6 ارب روپے کا خسارہ درپیش ہے۔
اجلاس میں چیف آپریٹنگ آفیسر (COO) اور چیف فنانشل آفیسر (CFO) کی فوری تقرری کی منظوری بھی دی گئی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ تقرریاں اوپن مارکیٹ اور مسابقتی عمل کے تحت کی جائیں گی تاکہ ادارے کے اعلیٰ معیار کی کارکردگی یقینی بنائی جا سکے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ قانونی ابہام کو دور کر کے ادارے کو بلا رکاوٹ عوامی خدمت کے قابل بنایا جائے گا۔ این آئی سی وی ڈی نے اب تک 200 سے زائد ٹی اے وی آئی پروسیجرز مفت فراہم کیے ہیں، جبکہ نجی اسپتالوں میں ان پروسیجرز کی لاگت تقریباً 40 لاکھ روپے تک ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ این آئی سی وی ڈی دنیا کا سب سے بڑا پرائمری این جی او پلاسٹی سینٹر ہے۔ اسٹروک پروگرام سے سیکڑوں مریض مستقل معذوری سے محفوظ ہوئے ہیں۔ لانڈھی میں قائم ہونے والا کارڈیک انسٹیٹیوٹ 1200 بستروں پر مشتمل ہوگا اور دنیا کا سب سے بڑا دل کا اسپتال ہوگا، جہاں جدید علاج اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









