ہفتہ، 7-فروری،2026
ہفتہ 1447/08/19هـ (07-02-2026م)

خیبرپختونخوا کا ہیومن کیپیٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ بدعنوانی، بدانتظامی اور انتقامی کارروائیوں کی علامت بن گیا

27 جنوری, 2026 21:41

خیبرپختونخوا حکومت کا وہ منصوبہ جسے “سڑکوں کے بجائے انسانوں پر سرمایہ کاری” کا عملی نمونہ قرار دیا گیا تھا، آج خود احتساب کے فقدان، مالی بے قاعدگیوں اور ادارہ جاتی ناکامی کی واضح مثال بن چکا ہے۔ ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیا گیا ہیومن کیپیٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ (HCIP)، جس پر 24 ارب روپے خرچ کیے جانے تھے، آڈٹ دستاویزات کے مطابق مبینہ طور پر 16 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کی نذر ہو گیا۔

منصوبہ، مقصد اور دعوے

یہ منصوبہ مارچ 2021 میں ورلڈ بینک بورڈ کی منظوری کے بعد شروع کیا گیا۔ پشاور، نوشہرہ، صوابی اور ہری پور جیسے گنجان آباد اضلاع میں صحت کی بنیادی سہولیات بہتر بنانا، ماں اور بچے کی صحت کو ترجیح دینا اور ہسپتالوں کو فعال بنانا اس کے بنیادی مقاصد تھے۔

لیکن منصوبے کے آغاز کے کچھ ہی عرصے بعد اندرونی سطح پر بدانتظامی، مشکوک ٹھیکوں اور غیر شفاف خریداریوں کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئیں۔

آڈٹ رپورٹ: سوالات ہی سوالات

دستیاب آڈٹ اور مانیٹرنگ دستاویزات کے مطابق 2022 کے سیلاب میں متاثرہ 158 صحت مراکز کی تعمیر و مرمت کے ٹھیکے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف دو من پسند کمپنیوں کو دیے گئے۔ حالانکہ سرکاری قوانین کے تحت ایک کمپنی کو ایک سے زائد ٹھیکے دینا ممنوع ہے۔

زائد قیمتوں پر ٹھیکے دینے سے قومی خزانے کو 7.8 ارب روپے کے نقصان کا تخمینہ لگایا گیا۔

دائرہ اختیار سے باہر اربوں کی خریداری

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ خاندانی منصوبہ بندی، جو اس منصوبے کے دائرہ اختیار میں شامل ہی نہیں تھی، کے لیے بغیر کسی مسابقتی بولی کے ایک ارب روپے سے زائد کی ادویات اور دیگر اشیاء خرید لی گئیں۔

اسی طرح ہسپتالوں کے لیے فرنیچر، طبی آلات اور شمسی توانائی کے نظام اوپن مارکیٹ سے دس گنا زائد قیمت پر خریدے گئے، جس سے دو ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا۔

بھوت ملازمین: کاغذوں میں اسپتال، زمین پر کچھ نہیں

آڈٹ رپورٹ کے مطابق حکومتی معیار سے کم اجرت پر 700 بھوت ملازمین بھرتی کیے گئے، جن کا نہ کوئی بایومیٹرک ریکارڈ موجود ہے اور نہ ہی تعیناتی کا کوئی ثبوت۔ ان ملازمین کی مد میں 51 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگیاں کی گئیں۔

ادویات کہاں گئیں؟

بغیر کسی ڈیمانڈ کے 57 کروڑ روپے کی ادویات خریدی گئیں، مگر ان کے استعمال، تقسیم یا مریضوں تک پہنچنے کا کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا جا سکا۔
مزید حیران کن انکشاف یہ ہے کہ ان ادویات کے لیے مناسب اسٹوریج کا انتظام تک موجود نہیں تھا، جس کے باعث گرلز ہاسٹل اور پارکنگ ایریاز کو بطور اسٹور استعمال کیا گیا۔

دیگر مالی بے ضابطگیاں

  • 78 لاکھ روپے کی او پی ڈی رسیدوں کا کوئی ریکارڈ نہیں
  • جعلی طریقہ کار سے من پسند کمپنی کو ہائر کر کے 20 کروڑ روپے کی ادائیگی
  • فیول اور دیگر اخراجات میں 3 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ خوردبرد
  • بعض افسران کو کروڑوں روپے کے اضافی الاؤنسز
  • کنسلٹنٹس سے سیلز ٹیکس کی عدم کٹوتی اور غیر قانونی بھرتیاں

احتساب کے بجائے انتقام

تحقیقات کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ آڈٹ رپورٹ کی سفارشات پر عملدرآمد کے بجائے مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ایکسپرٹ کو ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا، جنہوں نے ان بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی تھی۔ بغیر کسی شوکاز نوٹس کے ان کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا۔

دوسری جانب، رپورٹ میں جن افسران کو ذمہ دار قرار دیا گیا، وہ بدستور اپنے عہدوں پر موجود ہیں۔

شفافیت پر سوالیہ نشان

یہ معاملہ صرف ایک منصوبے کی ناکامی نہیں بلکہ اس پورے نظام پر سوالیہ نشان ہے جس میں اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز خرچ ہوتے ہیں، مگر احتساب کا عمل کہیں نظر نہیں آتا۔

کیا ورلڈ بینک جیسے عالمی ادارے اس آڈٹ رپورٹ کا نوٹس لیں گے؟
کیا صوبائی حکومت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی؟
یا “انسانوں پر سرمایہ کاری” کا نعرہ بھی دیگر نعروں کی طرح فائلوں میں دفن ہو جائے گا؟

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔