وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، سپریم کورٹ

Big good news for government employees has arrived
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وزیراعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دیں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں ہیں۔
یہ فیصلہ او جی ڈی ایل سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔ عدالت نے سابق وزیر کی نظر ثانی درخواست پر وکلاء کو تیاری کرنے کی ہدایت دی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ تقرری کے لیے اشتہار جاری کیا جاتا ہے، کوئی وزیر یا وزیراعظم بادشاہ نہیں ہے کہ بس آرڈر جاری کر دے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے مزید کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں گنجائش سے زیادہ بھرتیاں موجود ہیں۔
نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وزیر کے پرنسپل اسٹاف آفیسر نے تحریری طور پر کہا تھا کہ نوکریوں کے لیے پارلیمنٹ سے دباؤ آ رہا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ غیر قانونی دباؤ کے باوجود سول سرونٹس پابند نہیں۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ جب بھرتیاں کی گئی تھیں اس وقت احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا، متعلقہ وفاقی وزیر سزا بھگت چکے ہیں، اور ایک سزا کا داغ تو موجود ہے، کیا یہ کافی نہیں؟
اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے پی آئی اے کے حوالے سے کہا کہ اسے بین الاقوامی ائیر لائنز کے ساتھ موازنہ کیا جائے، جبکہ نیب کے وکیل نے وضاحت کی کہ زیادہ بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کی ضرورت پڑی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











