بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے پیچھے غیر ملکی سہولت کاری کے شواہد سامنے آ گئے

بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کے پیچھے غیر ملکی سہولت کاری کے شواہد سامنے آ گئے
بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں صوبے کے استحکام کے خلاف ایک منظم بیرونی سازش کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان حملوں کے پس پردہ بھارت اور دیگر غیر ملکی عناصر کی سہولت کاری شامل ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور ساز و سامان غیر ملکی ساختہ بتایا جا رہا ہے، جس کی مالیت لاکھوں روپے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق ہر دہشت گرد کو بیس سے پچیس لاکھ روپے مالیت کے اسلحے اور جدید جنگی آلات سے لیس کیا گیا تھا۔ برآمد ہونے والے اسلحے میں M16 اور M4 رائفلز، راکٹ لانچرز، ایمنگ لیزر اور نائٹ وژن گوگلز شامل ہیں۔
اس کے علاوہ دہشت گرد بیرونی ساختہ کمبٹ گیئر، بندولئیرز، بلٹ پروف جیکٹس اور جدید وائرلیس سیٹس سے بھی لیس پائے گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں سے نشہ آور ادویات اور انجیکشن بھی برآمد ہوئے، جنہیں بے حسی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین سوال اٹھاتے ہیں کہ احساسِ محرومی اور لاپتہ افراد کے نام پر بیانیہ گھڑنے والے عناصر کو اس قدر مہنگے اسلحے اور سازوسامان کی سہولت کاری کون فراہم کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی جانب سے ماضی میں بلوچستان سے متعلق دیے گئے بیانات ان شواہد کو تقویت دیتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی نژاد مورخ ڈاکٹر ہائم زیبنر کی تحقیقات میں بھی یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ اسرائیل، بلوچستان میں پاکستان کے خلاف سرگرم بعض دہشت گرد گروہوں کی مبینہ طور پر مدد کر رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام شواہد کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں اور قومی سلامتی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










