وفاقی آئینی عدالت کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار، ججز کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے کی ہدایت

ججز کو جذبات نہیں قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے، وفاقی آئینی عدالت
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کہا کہ ججز کو جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
یہ کیس شہید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے طالبعلم سے متعلق تھا، جسے گردے کی پیوندکاری کے باعث سالانہ امتحان میں حصہ لینے سے محروم ہونا پڑا تھا۔ طالبعلم نے یونیورسٹی سے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت کی درخواست کی، جو مسترد ہوئی، اس کے بعد سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے طالبعلم کو اسپیشل سپر سپلیمنٹری امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی تھی، تاہم وفاقی آئینی عدالت نے یہ حکم کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹس قانون، ضابطے یا ریگولیشن کے بغیر ہمدردی یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر حکم جاری نہیں کر سکتیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ ججز کو قانونی دائرے میں رہ کر انصاف کرنا ہوتا ہے، عدالتی فیصلوں کی بنیاد ذاتی عقائد یا سیاسی حقائق نہیں بن سکتی۔ وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ پاکستان افراد کے مطابق نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنے والا ملک ہے، اور ججز غیر جانبدار منصف ہوتے ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹس صرف وہی اختیار استعمال کر سکتی ہیں جو آئین یا قانون میں واضح کیا گیا ہو، اور جذبات کو قانونی ذمہ داری پر ترجیح دینا عدالتی منصب سے انحراف ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










