پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا انڈیکس: عوام کی اکثریت نے بدعنوانی نہ ہونے کی تصدیق کر دی

خیبرپختونخوا میں کرپشن کا بھانڈا پھوٹ گیا، 25 ارب کے اثاثے ضبط، بڑی گرفتاریاں جلد متوقع
کراچی: پاکستان فیڈرل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے ملک میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے ملک گیر سروے کے نتائج جاری کر دیے ہیں۔
سروے کے مطابق عوام کی اکثریت، یعنی 67 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ انہیں کسی بھی قسم کی بدعنوانی کا سامنا نہیں ہوا۔ مزید 73 فیصد نے بتایا کہ انہیں کبھی رشوت دینے کی نوبت پیش نہیں آئی، جبکہ 76 فیصد رائے دہندگان نے اقربا پروری سے متعلق تجربہ نہ ہونے کی تصدیق کی۔
سروے میں "عوامی تاثر” اور "ذاتی تجربے” میں واضح فرق سامنے آیا۔ 68 فیصد افراد کے مطابق سرکاری اداروں میں رشوت ستانی عام ہے، مگر صرف 27 فیصد نے ذاتی طور پر اس کا سامنا کیا۔ اسی طرح 56 فیصد کا خیال ہے کہ سرکاری اداروں میں اقربا پروری ہوتی ہے، لیکن صرف 24 فیصد نے ایسا تجربہ کیا۔
سروے میں اسلام آباد کو شفافیت میں سرفہرست قرار دیا گیا جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا نمایاں رہے۔ عوام نے اینٹی کرپشن اداروں میں نیشنل اکاؤنٹیبیلیٹی بیورو (NAB) کو سب سے مؤثر سمجھا۔ وفاقی و صوبائی محتسب، FIA اور NCCIA سے عوامی آگاہی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
سروے کے مطابق پولیس کے بعد سرکاری اسپتال، WAPDA اور تعلیمی ادارے سب سے زیادہ شفاف اور مثبت تجربے والے ادارے قرار پائے۔ عوام نے میرٹ پر بھرتی کو سب سے مؤثر اصلاح قرار دیا۔
سروے میں شہری علاقوں میں نظام پر اعتماد دیہی علاقوں کے مقابلے میں بہتر پایا گیا، اور نوجوان نسل کے تجربات بزرگوں کے مقابلے میں زیادہ مثبت رہے۔ خواتین اور شہری آبادی میں نظام پر اعتماد نسبتاً بہتر تھا۔
ملک گیر سروے میں 6018 افراد نے حصہ لیا، اور سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے آگاہی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










