فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بےنقاب

Nexus Between Fitna-e-Al-Hindustan and the Baloch Yakjehti Committee Exposed
بلوچستان میں نام نہاد لاپتہ افراد کی آڑ میں دہشت گردی فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے درمیان گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے۔
31 جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنایا، مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فہرست میں شامل دہشت گرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی اس دوران ہلاک ہوئے۔
فہرست میں دہشت گرد عبدالحمید اور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں ہلاک کیا گیا، اس سے قبل بھی مارے جانے والے متعدد دہشت گرد لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔
2025 میں قلات آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گرد صہیب لانگو بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں تھا، مارچ 2024 کو گوادر حملے میں ہلاک دہشت گرد کریم جان بھی لاپتہ افراد کی لسٹ میں تھا، نیول بیس حملے میں ہلاک دہشت گرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی لسٹ میں تھا۔
شواہد ثابت کرتے ہیں نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشت گردی کو جواز فراہم کرنے کیلئے ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی معصوم بلوچ نوجوانوں کو احساس محرومی کے جعلی بیانیے سے گمراہ کرتی ہے۔ بی وائی سی نوجوانوں کو احساس محرومی کے بیانیے میں الجھا کر فتنہ الہندوستان کے حوالے کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کو "را” اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











