ہفتہ، 7-فروری،2026
ہفتہ 1447/08/19هـ (07-02-2026م)

اسلام آباد دھماکہ : عوام دہشت گردی کیخلاف فیصلہ کن کارروائی کیلئے یک زباں ہوگئی

07 فروری, 2026 15:15

اسلام آباد میں حالیہ خودکش حملے کے بعد ملک کے مختلف حلقوں سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سیاست دانوں، ماہرینِ سلامتی، صحافیوں اور سوشل میڈیا پر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات نے دہشت گردی کی تازہ لہر، داخلی سلامتی کی صورتحال اور علاقائی تناظر پر اپنے اپنے زاویۂ نظر سے اظہارِ خیال کیا ہے۔

بعض مبصرین نے اس حملے کو افغانستان میں موجود شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں سے جوڑتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کو سرحد پار موجود خطرات کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ کچھ آراء میں یہ بھی کہا گیا کہ موسمِ بہار کے قریب آتے ہی شدت پسند گروہ دوبارہ سرگرم ہو جاتے ہیں اور پاکستان کو پیشگی تیاری کی ضرورت ہے۔ ان خیالات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مسئلے کی جڑ افغانستان میں موجود نیٹ ورکس ہیں۔

دوسری جانب چند تبصروں میں سخت سکیورٹی حکمت عملی اپنانے کی بات کی گئی اور یہ مؤقف سامنے آیا کہ مذاکرات یا ثالثی کے بجائے فیصلہ کن طاقت کے استعمال سے ہی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔

سیکیورٹی امور کی ماہر عائشہ صدیقہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ملک کے دیگر بڑے شہر بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھے جا سکتے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا تجزیہ صرف طالبان یا ٹی ٹی پی کے تناظر میں نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے کردار اور بعض ریاستی عناصر کی ناراضی کے تناظر میں بھی کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ برادری کو نشانہ بنانے جیسے واقعات مقامی روابط اور بیرونی اثرات کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے معروف سوشل میڈیا مبصر احمد شریف زاد نے کہا کہ پاکستانی اداروں کو اس بات کا علم ہوگا کہ حملے کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی اور حملہ آور کو کس نے اکسایا۔ ان کے مطابق افغانستان میں داعش کی موجودگی ایک سنگین خطرہ ہے اور طالبان حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

سابق فوجی افسر جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے کہا کہ ایسے مسلسل خونی واقعات کسی بھی ملک کو سنجیدہ غور و فکر پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں قومی اتفاقِ رائے، داخلی ہم آہنگی اور خارجہ پالیسی سمیت مجموعی حکمت عملی پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے، جبکہ تنگ نظری اور سیاسی مفادات کی سیاست کے لیے اب کوئی گنجائش نہیں رہتی۔

سلامتی امور کے ماہر علی کے چشتی نے رائے دی کہ صرف فضائی حملے یا طاقت کا استعمال دیرپا حل نہیں ہوتا۔ ان کے مطابق مؤثر حکمت عملی سفارت کاری، سرحدی کنٹرول، انٹیلی جنس دباؤ اور علاقائی اتفاقِ رائے کے امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی اولین ترجیح ہونی چاہیے مگر حکمت عملی غصے کے بجائے دانش پر مبنی ہونی چاہیے۔

اینکر غریدہ فاروقی نے سوال اٹھایا کہ اگر دھماکے کے فوراً بعد اتنی معلومات اکٹھی کی جا سکتی ہیں تو یہ معلومات پہلے کیوں دستیاب نہیں تھیں۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ قوم سے خطاب کر کے دہشت گردی کے خلاف مزید سخت حکمت عملی اختیار کی جائے۔

کچھ تبصروں میں بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں بڑے حملوں کے بعد سکیورٹی نظام کو سخت بنایا گیا، جبکہ پاکستان کو بھی داخلی سطح پر اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔

معروف صحافی ابصار عالم نے کہا کہ جن ممالک نے دہشت گردی پر قابو پایا، انہوں نے سب سے پہلے دہشت گردوں کی مالی معاونت کے ذرائع بند کیے اور انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کر کے مرکزی کرداروں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق جب تک دہشت گرد تنظیموں کی قیادت اور نیٹ ورکس کو ختم نہیں کیا جاتا، امن کا قیام ممکن نہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔