جھوٹا بیانیہ بمقابلہ زمینی حقائق، کیا اسلام آباد دھماکہ انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی تھی؟

اسلام آباد میں واقع ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ واقعہ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی ناکامی کا نتیجہ تھا اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ حملہ آوروں کو بروقت کیوں نہیں روکا جا سکا۔ تاہم دستیاب معلومات اور بعد ازاں سامنے آنے والے حقائق اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد حملے کو انٹیلیجنس ناکامی قرار دینا حقائق کے منافی ہے، کیونکہ انٹیلیجنس کی کامیابی کو محض میڈیا بیانیے یا کسی ایک واقعے سے نہیں بلکہ ردِعمل کی رفتار، دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنے کی صلاحیت اور مجرم عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے سے جانچا جاتا ہے۔ اس واقعے کے بعد جس تیزی اور ہم آہنگی کے ساتھ کارروائیاں کی گئیں، وہ انٹیلیجنس اداروں کے فعال اور مؤثر ہونے کا واضح ثبوت ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملے کے صرف ایک دن کے اندر اندر انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک کے چار بڑے شہروں میں بیک وقت مربوط چھاپے مارے، سہولت کاروں کو گرفتار کیا اور اس نیٹ ورک کے عملی کمانڈ اسٹرکچر کو ختم کر دیا جو اس حملے کے پیچھے کارفرما تھا۔ یہ کارروائیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ اداروں کے پاس قابلِ عمل معلومات اور مؤثر نگرانی کا نظام موجود تھا۔
تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور ہدایات افغانستان سے سرگرم داعش کے عناصر کی جانب سے دی گئی تھیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے داعش اور خوارج تنظیموں کی موجودگی پر چشم پوشی خطے ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین سیکیورٹی خطرات کو جنم دے رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق سیکیورٹی ناکامی کا معیار یہ ہوتا ہے کہ ریاست ردِعمل نہ دے، جبکہ اسلام آباد حملے کے بعد فوری اور فیصلہ کن اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات میں مزید انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں شامل تھیں، جن کے دوران آئندہ ممکنہ دہشت گرد حملوں کے لیے تیار کیا گیا بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا، جن میں سب سے نمایاں خطرہ کراچی میں ممکنہ حملوں سے متعلق تھا۔
ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر اکثر عام آبادی کے درمیان چھپ کر رہتے ہیں اور نظریاتی ہمدردوں کی مدد سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ جب ریاست ایسے عناصر کو قبل از وقت غیر مؤثر بنانے کے لیے کارروائی کرتی ہے تو بعض اوقات اسے شہری آزادیوں کے نام پر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اجتماعی سلامتی کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے لیے معاشرتی سطح پر واضح سوچ، ریاستی اداروں کی مکمل حمایت اور دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے لیے کسی قسم کی برداشت نہ ہونا ناگزیر ہے۔
اس حوالے سے جنرل (ر) چوہدری سجاد کا کہنا ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسیاں اسلام آباد میں دیگر اداروں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ آپریشن کی مکمل تیاری کر چکی تھیں۔ ان کے مطابق اصل میں حملہ کسی اور انتہائی اہم مقام پر منصوبہ بندی کے تحت ہونا تھا جہاں رش بھی زیادہ تھا، تاہم آخری لمحات میں مشکوک حالات پیدا ہونے پر حملہ آوروں نے مجبوری کے تحت اصل ہدف ترک کر کے نسبتاً آسان ٹارگٹ، یعنی امام بارگاہ کو نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے سے قبل کافی حد تک معلومات موجود تھیں، اسی لیے بعد ازاں مجرموں کے مخصوص ٹھکانوں اور ان کے قریبی اہلِ خانہ کو بھی حراست میں لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے عمل کے دوران دو انٹیلیجنس افسران نوشہرہ اور دیگر مقامات پر شہید ہوئے، تاہم حساس نوعیت کے باعث ان کے تک نام عوام اور میڈیا کے سامنے ظاہر نہیں کیے جا سکتے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











