بلوچستان میں دہشتگردی، تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ میں اہم انکشافات

کراچی: سینئر صحافی طلعت حسین کے مطابق بی ایل اے کے حالیہ حملوں سے متعلق تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس میں ایسے پہلو سامنے آئے ہیں جو ان کارروائیوں کی نوعیت کو روایتی مسلح حملوں سے مختلف قرار دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر یہ واقعات عسکری نوعیت کے دکھائی دیتے ہیں، تاہم تحقیقات کے مطابق ان کا بنیادی مقصد کسی اسٹریٹجک یا عسکری ہدف کو حاصل کرنا نہیں بلکہ منظم انداز میں ویڈیوز تیار کر کے سوشل میڈیا پر ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینا تھا۔
میڈیا نمائندگان کے ساتھ شیئر کی گئی معلومات کے مطابق کئی علاقوں میں موبائل ڈیٹا سروس بند ہونے کے باوجود بی ایل اے اپنے حملوں کی ویڈیوز بروقت اپلوڈ کرنے میں کامیاب رہی۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے سیٹلائٹ اپ لنکس استعمال کیے گئے، خصوصاً ایسے پورٹیبل براڈبینڈ ٹرمینلز جن کی اپ لنک رفتار ایک میگا بٹ فی سیکنڈ تک اور بیٹری بیک اپ تقریباً 38 گھنٹے تک ہوتا ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں بھی رابطہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حملوں کی ریکارڈنگ کے لیے جدید ایکشن کیمرے، ڈرونز اور تھرمل لینز استعمال کیے گئے۔ بعد ازاں یہ ویڈیوز لیپ ٹاپس پر ویڈیو ایڈیٹنگ سوفٹ ویئر کی مدد سے ایڈٹ کی گئیں، جن میں تنظیم کا لوگو، پس منظر میں نعرے اور مخصوص آڈیو ایفیکٹس شامل کیے گئے تاکہ مواد کو زیادہ مؤثر اور منظم انداز میں پیش کیا جا سکے۔
ایک گرفتار ملزم کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نے اعتراف کیا کہ ان کی ترجیح کسی بھی قیمت پر ایف سی ہیڈکوارٹر پر تنظیم کا جھنڈا لہرا کر اس کی ویڈیو بنانا تھا تاکہ اسے آن لائن پھیلایا جا سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ویڈیو کی تیاری اور اس کی ترسیل کو عسکری کامیابی سے زیادہ اہم سمجھا جا رہا تھا۔
اس نوعیت کی میڈیا کوریج دراصل یورپ اور خلیجی ممالک میں مقیم بلوچ ڈائسپورا کو متاثر کرنے کی ایک مربوط حکمتِ عملی کا حصہ تھی، جہاں سوشل میڈیا کے ذریعے ہمدردی اور حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
برآمد شدہ سامان سے یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ ہر یونٹ کے پاس متعدد کیمرے، سیٹلائٹ ٹرمینل، سیٹلائٹ فون اور سولر پاورڈ بیک اپ موجود تھا، جس کی بدولت وہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں بھی تکنیکی اعتبار سے خود کفیل رہتے تھے اور رابطے کی سہولت برقرار رکھتے تھے۔
سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دہشت گردی محض ہتھیاروں اور بارود تک محدود نہیں رہی بلکہ اب بینڈوڈتھ، سافٹ ویئر اور سوشل میڈیا بھی اس کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ویڈیو مواد کی تیاری کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو نہ صرف بیانیہ تشکیل دیتا ہے بلکہ ریاستی مؤقف کو بھی چیلنج کرتا ہے۔
انہی مشاہدات کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ تکنیکی نگرانی اور ڈیجیٹل حکمتِ عملی کو بھی ازسرِنو ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ اسپیکٹرم اینالائزرز، اپ لنک ڈیٹیکشن سسٹمز اور کرپٹو فنڈنگ چینلز کی نگرانی اب ناگزیر ہو چکی ہے۔
ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ جنگ صرف سرحدوں یا میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ کیمروں، کلاؤڈ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی لڑی جا رہی ہے، اس لیے ریاست کو بھی برق رفتاری سے تصدیق شدہ معلومات کے ذریعے پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دینا ہوگا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











