برطانوی خاتون نے گلے ملنے سے انکار کرنے پر پاکستانی نژاد نوجوان پر زیادتی کا الزام لگا دیا

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق ایک ایسے مقدمے کا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں ایک خاتون نے اس شخص پر ریپ کا جھوٹا الزام لگایا تھا، جس نے اسے نشے اور پریشانی کی حالت میں سڑک سے اٹھا کر گھر چھوڑا تھا۔ عدالت نے 38 سالہ خاتون ریچل جونزکو انصاف کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں دو سال قید کی سزا سنائی۔
رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص 33 سالہ سلیم اللہ، جو اس وقت باپ بننے والے تھے، نے 18 اپریل 2022 کی رات چیشر کے علاقے میں ایک خاتون کو ننگے پاؤں، روتے اور نشے کی حالت میں سڑک پر دیکھا۔ خاتون ٹیکسی ڈرائیور سے جھگڑے کے بعد گاڑی سے اتار دی گئی تھی اور گھر جانے کی کوشش کر رہی تھی۔ سلیم اللہ نے انسانی ہمدردی کے تحت گاڑی روکی اور اسے گھر چھوڑنے کی پیشکش کی۔
سفر کے دوران خاتون نے مبینہ طور پر سلیم اللہ سے گلے ملنے کا کہا، جس پر انہوں نے انکار کیا۔ گھر پہنچنے کے بعد خاتون نے پولیس کو اطلاع دی کہ اسے ایک گاڑی میں لے جا کر سلیم اللہ اور دو دیگر پاکستانی افراد نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
پولیس نے نمبر پلیٹ کے ذریعے سلیم اللہ کا سراغ لگا کر انہیں اسٹوک آن ٹرینٹ میں ان کے گھر سے گرفتار کیا۔ انہیں 30 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، طبی و فرانزک معائنہ کیا گیا اور محلے میں افواہوں کا سامنا کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق سلیم اللہ نے احتیاطاً اس پورے واقعے کی موبائل فون پر ویڈیو ریکارڈنگ کی تھی۔ یہی فوٹیج پولیس کو فراہم کی گئی جس کے بعد تفتیش میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کوئی زیادتی نہیں ہوئی۔ ویڈیو ثبوت نے انہیں بری الذمہ ثابت کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
خاتون نے چیسٹر کراؤن کورٹ میں اعتراف کیا کہ اس نے جھوٹا بیان دیا تھا۔ استغاثہ کے وکیل تھامس میک لافلن کے مطابق خاتون نے پولیس کو تفصیلی مگر من گھڑت کہانی سنائی تھی، جس میں تین پاکستانی افراد کی جانب سے دھمکیوں اور 45 منٹ تک زیادتی کا دعویٰ شامل تھا۔
بعد ازاں خاتون نے پولیس کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ وہ نشے میں تھی اور اس نے غلط باتیں گھڑ لیں۔ خاتون کا کہنا تھا کہ میں نے احمقانہ حالت میں ایسی باتیں کہیں جو کبھی نہیں کہنی چاہئیں تھیں۔ مجھے افسوس ہے۔
سزا سناتے ہوئے جج اسٹیون ایورٹ نے کہا کہ سلیم اللہ نے مثالی رویہ اختیار کیا اور وہ کام کیا جو بہت سے لوگ نہیں کرتے۔ افسوس کہ ان کی اس نیکی کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں شدید اذیت سے گزرنا پڑا۔ اگر انہوں نے گفتگو ریکارڈ نہ کی ہوتی تو ممکن ہے ان پر ریپ کا مقدمہ چلتا۔ ایسے واقعات کی وجہ سے لوگ مستقبل میں کسی پریشان حال خاتون کی مدد کرنے سے بھی ہچکچائیں گے۔
سلیم اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس وقت ان کی اہلیہ چھ ماہ کی حاملہ تھیں اور اس الزام نے ان کی زندگی میں شدید ذہنی دباؤ پیدا کیا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ میں نے واقعہ ریکارڈ کیا۔ میں ڈرتا تھا کہ کہیں بچے کی پیدائش کے وقت میں موجود نہ ہوں۔ محسوس ہوا کہ مجھے ان کی نسلی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے بعد سلیم اللہ نے بدنامی اور ذہنی دباؤ کے باعث اسٹوک آن ٹرینٹ چھوڑ دیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











