پاکستان کے امریکہ کو انکار پر صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا : کویتی صحافی کا دعویٰ

ترک میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق کویت کے معروف صحافی فواد الہاشم نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ ایک دور میں اظہارِ رائے کی آزادی موجود تھی، اسی وجہ سے پاکستانی سفیر نے خود ان سے رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال کی وضاحت کی خواہش ظاہر کی، بعد ازاں صدر ضیاء کے دورہ کویت کے موقع پر پاکستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی اور یہ پیشکش کی کہ اگر وہ چاہیں تو پاکستانی صدر سے ان کی باقاعدہ ملاقات کا بندوبست کیا جا سکتا ہے، اگلے روز انہیں بتایا گیا کہ ملاقات دوپہر دو بجے ہوگی۔
فواد الہاشم کے مطابق انہوں نے صدر ضیاء الحق کے ساتھ تقریباً تین گھنٹے طویل گفتگو کی، جس میں افغان مجاہدین کی امداد، ذوالفقار علی بھٹو کی معزولی اور سوویت یونین کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے جنگجوؤں کے کردار جیسے حساس موضوعات زیر بحث آئے، تاہم صدر ان معاملات میں بیرونی کردار سے مسلسل انکار کرتے رہے۔
کویتی صحافی نے دعویٰ کیا کہ ملاقات کے اختتام پر صدر ضیاء الحق نے ان کی تعریف کی اور انہیں شکار پر چلنے کی دعوت بھی دی، جبکہ رخصت کے وقت دروازے پر ایک نہایت اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ امریکیوں نے ان سے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے انہوں نے صاف الفاظ میں مسترد کر دیا، ان کے مطابق اگر یہ مطالبہ قبول کر لیا جاتا تو یہ جنگ پاکستان اور ایران کے درمیان ہوتی، تاہم صدام حسین نے امریکی مطالبہ مان لیا اور یہی جنگ بعد میں ایران اور عراق کے درمیان لڑی گئی۔
فواد الہاشم نے مزید بتایا کہ اس مرحلے پر امریکی قیادت صدر ضیاء الحق سے بیزار ہو چکی تھی اور انہیں اپنی جان کو شدید خطرہ لاحق تھا، اسی لیے وہ اکثر امریکی سفیر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جا سکے، لیکن جب وہ کشمیر کے دورے پر روانہ ہوئے تو امریکی سفیر بھی اسی طیارے میں موجود تھا جسے بعد میں تباہ کر دیا گیا۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












