اقوام متحدہ میں افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی موجودگی پر پاکستان کا مؤقف تسلیم

نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی مسلسل موجودگی سے متعلق پاکستان کے دیرینہ خدشات کی بھرپور تائید کی ہے۔
یہ رپورٹ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی 1267 پابندیوں کی کمیٹی کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں افغانستان کی موجودہ انتظامیہ کے کردار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی ڈی فیکٹو اتھارٹیز نے کئی دہشتگرد گروہوں کو ایک سازگار ماحول فراہم کر رکھا ہے، بالخصوص تحریک طالبان پاکستان کو زیادہ آزادی اور معاونت حاصل ہے۔
اس ماحول کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں کشیدگی بڑھی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ القاعدہ کو بھی افغانستان میں موجود انتظامیہ کی سرپرستی حاصل ہے جس کے باعث وہ ایک سہولت کار اور طاقت میں اضافہ کرنے والے عنصر کے طور پر کام کر رہی ہے۔
القائدہ کی جانب سے تربیت اور اسٹریٹجک رہنمائی فراہم کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ معاونت بنیادی طور پر ٹی ٹی پی کو فراہم کی جا رہی ہے۔ رپورٹ اس مؤقف کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ افغانستان سے ہونے والی دہشتگردی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔
ٹی ٹی پی کو افغانستان میں آزادانہ نقل و حرکت، سہولت کاری اور وسائل تک رسائی حاصل ہے جس کے باعث اس کی کارروائیوں کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد کے مطابق یہ رپورٹ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ افغانستان کی صورتحال محض داخلی معاملہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات ہمسایہ ممالک پر براہ راست مرتب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرتا رہا ہے اور اب اقوام متحدہ کی اس رپورٹ نے ان خدشات کی توثیق کر دی ہے۔ رپورٹ میں دہشتگرد نیٹ ورکس کے درمیان باہمی روابط، تربیتی سرگرمیوں اور علاقائی سلامتی پر بڑھتے خطرات کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے اور اس پر فوری عالمی توجہ درکار ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










