پاکستان تحریکِ انصاف اندرونی انتشار کا شکار: خیبرپختونخوا ہاؤس اجلاس نے قیادت کی ناکامی بے نقاب کر دی

Arrest warrants issued for 50 top PTI leaders
خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے حالیہ اجلاس کے اندرونی نکات منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت، تنظیمی نظم و ضبط اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں پارٹی کے اندر موجود اختلافات، احتجاجی حکمتِ عملی اور قیادت کے کردار پر کھل کر بات کی گئی۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے میڈیکل چیک اپ کے موقع پر کوئی نمائندہ شریک نہ ہو سکا۔ اس کی بنیادی وجہ ان کی ہمشیرہ علیمہ خان کی جانب سے حکومت کی اس پیشکش کو مسترد کرنا تھا جس میں ڈاکٹروں اور پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کی موجودگی شامل تھی۔ اجلاس میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر علیمہ خان اسی طرح دیگر رہنماؤں کو روکتی رہیں تو اس کا نقصان خود عمران خان اور پارٹی دونوں کو ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران ارکانِ صوبائی اسمبلی کو ہدایت دی گئی کہ وہ واپس جا کر مزید لوگوں کو متحرک کریں، تاہم احتجاج کو صرف خیبرپختونخوا کی حدود تک محدود رکھا جائے۔ قیادت کا خیال تھا کہ احتجاج کا دائرہ بڑھانے سے حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
کچھ سینئر رہنماؤں کے کردار پر بھی تنقید کی گئی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر نے دانستہ طور پر خود کو پارلیمنٹ کے اندر محدود رکھا، جبکہ پارٹی قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ باہر نکل کر کارکنان کی حوصلہ افزائی کرتی اور احتجاج کی قیادت کرتی۔
اسی طرح اقبال آفریدی کو نازیبا زبان اور اشتعال انگیز رویے پر قابو پانے کی ہدایت دی گئی۔ تاہم اس کے ردِعمل میں انہوں نے خود کو پارلیمانی لاجز تک محدود کر لیا، جسے پارٹی ہدایات سے عدم تعاون کے طور پر دیکھا گیا۔
اجلاس میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ پارٹی قیادت کے خلاف باہر بیٹھے بلند آواز اور تضحیک آمیز ٹرولز نے کارکنان کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ سڑکوں کی بندش سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جس کا سیاسی نقصان بھی پی ٹی آئی کو ہو رہا ہے۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ پارٹی کو اپنی موجودہ حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا ہوگا۔
قیادت کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا گیا کہ بیرسٹر گوہر کو آزادانہ فیصلے کرنے چاہئیں اور کسی ایک شخصیت کے ویٹو کا پابند نہیں ہونا چاہیے، تاکہ پارٹی اندرونی دباؤ سے نکل سکے۔
اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ اگر پی ٹی آئی سے منسلک ٹرولز کو کنٹرول نہ کیا گیا تو سہیل آفریدی مستقبل میں علی امین خان گنڈاپور جیسی متنازع صورتِ حال کی علامت بن سکتے ہیں، جو پارٹی کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا۔
آخر میں اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق جھوٹی اور گمراہ کن خبروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ خاص طور پر وہ دعوے جن میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی بینائی مستقل طور پر ختم ہو چکی ہے، پارٹی قیادت کے مطابق منظم پروپیگنڈا ہیں۔ اس حوالے سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مؤقف کی تائید بھی کی گئی۔
مجموعی طور پر خیبرپختونخوا ہاؤس کے اس اجلاس نے پی ٹی آئی کے اندر موجود اختلافات، کمزور رابطہ کاری اور غیر مؤثر احتجاجی حکمتِ عملی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اگر پارٹی قیادت نے بروقت اصلاحی اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں سیاسی نقصان بڑھنے کا خدشہ ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









