سڑکوں کے بجائے دریا، پاکستان کے لیے سستا اور مؤثر ٹرانسپورٹ ماڈل تجویز

ماہرِ ماحولیات ذوالفقار احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پانچ ہزار کلومیٹر سے زائد قابلِ استعمال دریاؤں کا نیٹ ورک مجرمانہ حد تک نظر انداز کیا جا رہا ہے جبکہ ملک سڑکوں اور درآمدی ایندھن پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔
ان کے مطابق صرف دریائے سندھ کا نظام ہی روزانہ دس ہزار سے زائد ٹرکوں کا بوجھ کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے لاجسٹکس اخراجات میں 30 سے 40 فیصد تک کمی اور ڈیزل کے استعمال میں نمایاں کمی ممکن ہے، اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی درآمد پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالر بچائے جا سکتے ہیں، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم اور روپے کو استحکام مل سکتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پنجاب، جہاں راوی، چناب اور ستلج جیسے بڑے دریا موجود ہیں۔ دریائی ٹرانسپورٹ ایندھن کے لحاظ سے تین گنا زیادہ مؤثر اور فی ٹن کلومیٹر لاگت کے اعتبار سے تقریباً ڈیڑھ گنا سستی ہے۔
ذوالفقار احمد کے مطابق اگر پنجاب حکومت اس شعبے کو بحال کرتی ہے تو یہ منصوبہ موٹروے منصوبوں سے بھی بڑا معاشی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دریائی لاجسٹکس کی بحالی سے ایندھن کی درآمد میں کمی، سڑکوں پر رش میں نمایاں کمی، ماحولیاتی آلودگی میں کمی، بندرگاہوں، ڈریجنگ، شپ بلڈنگ اور لاجسٹکس کے شعبوں میں ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع اور علاقائی تجارت و رابطہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش اپنی پچاس فیصد مال برداری دریاؤں کے ذریعے منتقل کرتا ہے جبکہ پاکستان میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے، اس لیے یہ محض ایک انفراسٹرکچر منصوبہ نہیں بلکہ ایک بڑی معاشی اصلاح بھی ہو سکتی ہے، جس کے لیے فوری طور پر جامع فزیبلٹی اسٹڈی، جدید ٹرمینلز اور پنجاب بھر میں کنٹینرائزڈ بارج سسٹمز متعارف کرانے کی ضرورت ہے، اور ان کے بقول اس منصوبے پر سرمایہ کاری کا منافع کسی بھی بڑے موٹروے منصوبے سے زیادہ ہو سکتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











