غزہ کی صورتحال اور بورڈ آف پیس کا اجلاس: پاکستان کا دوٹوک مؤقف

غزہ کی موجودہ سنگین صورتحال کے پیش نظر منعقد ہونے والے بورڈ آف پیس کے اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا کہ پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا مقصد صرف اور صرف اہلِ فلسطین کے مفادات کا تحفظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عوام اور ریاست کا فلسطین کے مسئلے پر مؤقف ہمیشہ سے ایک اور متفقہ رہا ہے، تاہم بعض عناصر سیاسی مفادات کی خاطر اس حساس معاملے پر قوم میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حافظ طاہر اشرفی نے اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف عاصم منیر نے ہر موقع پر فلسطین کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آج کے اجلاس میں بھی وزیرِ اعظم پاکستان فلسطین کے حوالے سے ملک کے اصولی اور تاریخی مؤقف کو بھرپور انداز میں پیش کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف بالکل غیر مبہم ہے: ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو؛ غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی؛ اسرائیلی جارحیت اور مظالم کا خاتمہ؛ اور غزہ کی فوری تعمیرِ نو۔
پاکستان کا تاریخی مؤقف برقرار
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کے منظور شدہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فریم ورک میں شرکت پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی کی علامت نہیں۔ قیامِ پاکستان سے آج تک پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ پالیسی آج بھی وہی ہے جو پہلے تھی۔
کثیرالجہتی فورم میں شرکت کا مقصد
بورڈ آف پیس میں شرکت ایک اجتماعی اقدام ہے جس میں سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں۔ لہٰذا اس شرکت کو کسی قسم کی نارملائزیشن یا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑنا درست نہیں۔ کثیرالجہتی فورمز میں شرکت سفارتی تعلقات کے قیام کے مترادف نہیں ہوتی بلکہ عالمی ذمہ داری کے تقاضوں کو پورا کرنے کا اظہار ہوتی ہے۔
فلسطینی مفادات کے تحفظ کا عزم
پاکستان کی اس فورم میں شمولیت واضح شرائط کے ساتھ ہے: مستقل جنگ بندی، غزہ کی تعمیرِ نو، اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنا۔ اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو سے متعلق مؤثر فیصلے وہی ممالک کر سکتے ہیں جو مذاکراتی میز پر موجود ہوں۔ پاکستان وہاں اس لیے موجود ہے تاکہ فلسطینی مؤقف کا تحفظ کرے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی اقدام فلسطینی عوام کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












