اتوار، 1-مارچ،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

پاکستان میں گلیشیرز کی ‘شادی’، بلتستان کی صدیوں پرانی دانش اور ماحولیاتی تحفظ

19 فروری, 2026 15:28

پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کے دہانے پر کھڑا ہے، جہاں صدیوں پرانے برفانی ذخائر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ رکھنے والے پاکستان کو اوسطاً 1.3 ڈگری سیلسیئس اضافے کا سامنا ہے، جو عالمی اوسط سے دوگنا زیادہ ہے۔

ایسے میں ہمالیہ کے بلند و بالا سلسلوں میں موجود 13 ہزار سے زائد گلیشیرز کو محفوظ رکھنے کے لیے مقامی کمیونٹیز نے اپنی قدیم دانش، جسے گلیشیر گرافٹنگ یا مقامی زبان میں گلیشیرز کی شادی کہا جاتا ہے، کو بروئے کار لایا ہے۔

یہ محض ایک تکنیک نہیں بلکہ فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی کا مقدس عہد ہے، اس فن میں نر اور مادہ برف کے ٹکڑوں کو مخصوص طریقے سے تہہ در تہہ ترتیب دیا جاتا ہے، سات مختلف چشموں کا پانی ان پر ٹپکایا جاتا ہے اور وقت کے ساتھ یہ ٹکڑے ایک مستقل گلیشیر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جو دہائیوں تک پانی کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : موسمیاتی تغیر کا اثر؛ آئس لینڈ میں مچھر دریافت ہوگیا

یونیورسٹی آف بلتستان کے محقق ذاکر حسین ذاکر کے مطابق یہ عمل سخت ڈسپلن، روحانی آداب اور ثقافتی ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے، جس میں برف کو جمع کرنے سے لے کر گلیشیر بنانے تک کسی قسم کی غیر محتاط حرکت یا جاندار کو نقصان پہنچانا ممنوع ہے اور اختتام پر روایتی گانے گینگ لہو گائے جاتے ہیں۔

یہ روایت 14ویں صدی سے موجود ہے اور ابتدائی طور پر دفاعی حکمت عملی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی۔ اس کے باوجود بدلتے ہوئے موسم، انسانی مداخلت، سرحدی تنازعات اور نئی نسل کی شہروں کی طرف ہجرت اس قدیم علم کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، مگر یہ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ کس طرح مقامی دانش کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے گلیشیرز کی بقا کے لیے عالمی کاربن اخراج کی کمی کے ساتھ ساتھ مقامی روایتوں کا تحفظ بھی ناگزیر ہے، جبکہ سوال یہ ہے کہ آیا جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ہم وہ قدیم دانش کھو رہے ہیں جو قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کے واحد راستے کا ضامن ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔