ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

دہشت گردی پاکستان کی نئی معاشی حکمتِ عملی میں رکاوٹ ہے : امریکی میڈیا

22 فروری, 2026 10:38

امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق پاکستان اپنی روایتی خارجہ پالیسی سے ہٹ کر تزویراتی لچک کی نئی راہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد اب علاقائی اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کر کے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد کسی ایک طاقت کے کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے وسیع تر سفارتی گنجائش پیدا کرنا ہے۔

تجزیے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے تعلقات طویل عرصے سے جمود کا شکار ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر مستقل کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل تعطل میں ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اب یہ ادراک کر رہا ہے کہ صرف ایک تنازع پر اصرار کرنے کے بجائے اسے علاقائی تجارت اور معاشی مواقع پر بھی توجہ دینا ہوگی تاکہ عالمی تنہائی سے بچا جا سکے اور سفارتی دائرہ وسیع کیا جا سکے۔

افغانستان کے تناظر میں صورتِ حال مزید پیچیدہ قرار دی گئی ہے۔ کابل میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد جس تزویراتی گہرائی کی امید کی جا رہی تھی وہ توقعات کے برعکس چیلنج بن گئی۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں میں اضافہ اور افغان حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر سخت دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال قومی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کا افغانستان پر حملوں سے قبل امریکہ و ایران سمیت دیگر ممالک سے سفارتی رابطہ

مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا امتحان چین اور امریکہ کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے اور گہری شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی ایک نازک مرحلہ ہے۔ پاکستان اب کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے دونوں طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی پالیسی اختیار کر رہا ہے۔

قومی سلامتی کے تصور میں بھی تبدیلی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پاکستان اب صرف عسکری قوت پر انحصار کے بجائے معاشی استحکام کو سلامتی کا بنیادی ستون قرار دے رہا ہے۔

ملک کو تجارتی اور توانائی کی راہداری بنانے کا خواب علاقائی امن سے جڑا ہوا ہے، کیونکہ پائیدار ترقی کے لیے داخلی و خارجی استحکام ناگزیر ہے۔

تجزیے میں واضح کیا گیا ہے کہ اندرونی سیاسی بے یقینی اور معاشی مشکلات اس نئی حکمتِ عملی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ جب تک داخلی استحکام پیدا نہیں ہوتا، خارجہ پالیسی میں مطلوبہ لچک اور مؤثر فیصلے ممکن نہیں ہوں گے۔

مضمون میں کہا گیا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو مؤثر انداز میں استعمال کر کے علاقائی تنازعات میں کمی اور معاشی بہتری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی ساکھ مضبوط کرنا چاہتا ہے، تاہم دہشت گردی اور داخلی بحران اس سفر کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔