ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)

کرک : دہشت گردوں نے ایمبولینس کو آگ لگا کر زخمیوں اہلکاروں کو زندہ جلا ڈالا

24 فروری, 2026 14:35

خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے انتہائی بزدلانہ اور وحشیانہ کارروائی کی، جس میں فرنٹیئر کور کے تین زخمی اہلکار زندہ جل کر شہید ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ضلع کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کی ایک پوسٹ پر شدت پسند عناصر نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار زخمی ہو گئے۔

زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ریسکیو 1122 کی دو ایمبولینسیں موقع پر پہنچیں اور انہیں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی۔ واپسی کے دوران شدت پسندوں نے دونوں ایمبولینسوں کو نشانہ بنایا۔

ایک ایمبولینس کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں اس میں موجود زخمی اہلکار زندہ جل کر شہید ہو گئے جبکہ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو بحفاظت نکالنے میں کامیاب رہی۔ آگ لگنے سے ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو ایک ایک دو دو کا ایک اہلکار بھی جھلس گئے۔

یہ بھی پڑھیں : کوہاٹ میں پولیس موبائل پر خونریز حملہ، ڈی ایس پی سمیت پانچ اہلکار شہید

آگ میں جل کر شہید ہونے والوں میں فیڈرل کانسٹیبلری کے سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔ سپاہی مراد گل اور سپاہی ایان خان کا تعلق ضلع ہنگو سے تھا جبکہ لانس نائیک عادل خان ضلع مانسہرہ کے رہائشی تھے۔

دیگر زخمیوں میں حوالدار صابر ولد حکیم شاہ، محمد یوسف ولد شربت خان، حنیف ولد گل زرین اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں جنہیں علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل ذرائع ابلاغ پر جاری کی گئی جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا تھا۔

علماء کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران بھی زخمیوں پر حملہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے اور یہ کھلی بربریت ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں آخری شدت پسند کے خاتمے تک جاری رہیں گی اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔