پاکستان میں ڈنڈے کی نہیں ہیلنگ ٹچ کی ضرورت ہے : مشاہد حسین کی جی ٹی وی سے گفتگو

سینیٹر مشاہد حسین سید نے جی ٹی وی کے پروگرام لائیو وِدتھ مجاہد کے میزبان مجاہد بریلوی سے گفتگو میں کہا کہ بڑی تبدیلی آگئی ہے۔’ہمارے لڑکے‘ سے لاتعلقی تک پاکستان کی افغان پالیسی، جو گزشتہ پچاس برسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی، اب ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں نصیر اللہ بابر کے دور سے لے کر حالیہ برسوں تک، اسٹیبلشمنٹ کی افغان طالبان کے ساتھ ایک ’نظریاتی وابستگی‘ رہی ہے، جہاں انہیں ’اپنے لڑکے‘ سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، موجودہ عسکری قیادت نے اس دیرینہ پالیسی سے مکمل لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ اب توجہ ’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘ جیسے فرسودہ تصورات کے بجائے خالصتاً دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کارروائیاں واضح پیغام ہیں کہ اب کسی کو بھی ’رعایت‘ نہیں ملے گی۔ موجودہ عسکری قیادت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ماضی کے برعکس طالبان کو مکمل طور پر ’ڈس اون‘ کر دیا ہے۔ اب ان کے ساتھ کوئی نظریاتی وابستگی یا ’اپنے بندوں‘ والا تعلق برقرار نہیں رہا۔

ایران معاملے پر گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ اقتدار میں آمد نے خطے میں بے چینی پیدا کر دی ہے، لیکن ٹرمپ کو سمجھنے کے لیے ان کی دو بنیادی جبلتوں بزنس اور پیسہ کو دیکھنا ہوگا۔ وہ ہر معاملے کو مالی نفع و نقصان کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
سینیٹر کا کہنا تھا کہ وہ جنگ کے بجائے ڈرا دھمکا کر اپنا مقصد حاصل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ٹرمپ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ایران کوئی وینزویلا یا عراق نہیں ہے۔ ایران 9 کروڑ آبادی کا ایک ایسا ملک ہے، جس نے لڑنے یا مرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے اپنے جانشین کا پہلے سے اعلان کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہر قسم کے تصادم کے لیے تیار ہیں۔
مشاہد حسین نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ایران کو شام، سوڈان اور صومالیہ کی طرح لسانی و نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں، وہیں ٹرمپ ایک ڈیل کی تلاش میں ہوں گے۔ ٹرمپ ایک حقیقت پسند شخص ہیں؛ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ امریکہ کے زوال کو تیز کر سکتی ہے۔ وہ جنگ کے بجائے ڈیل کو ترجیح دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں : عمران خان کی آنکھ کے علاج کیلئے پمز منتقلی، دوسرا انجکشن لگا دیا گیا، صحت تسلی بخش قرار
سینیٹر مشاہد حسین سید نے بلوچستان سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری ہائبرڈ وار کا سب سے خطرناک پہلو بلوچستان میں ابھرتا ہوا "انڈو-اسرائیل گٹھ جوڑ” ہے۔
سینیٹر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن میں قائم اسرائیلی تھنک ٹینک ’میمری‘ نے باقاعدہ طور پر ایک "بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ” شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا واضح مقصد پاکستان اور ایران، دونوں کے بلوچ علاقوں میں علیحدگی پسندی اور انتشار کو ہوا دینا ہے۔ یہ محض دہشت گردی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جیو پولیٹیکل سازش ہے تاکہ خطے کے نقشے کو اسرائیل کے عزائم کے مطابق بدلا جا سکے۔
مشاہد حسین نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل فوجی آپریشن نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ ہے۔ اگر عوامی نمائندوں کی آواز کو بیلٹ کے ذریعے نہیں سنا جائے گا، تو پھر بے چینی کا رخ کسی اور سمت مڑ سکتا ہے۔
سعودی عرب اور ایران تعلقات پر بات ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بڑی حقیقت علاقائی سیاست میں سب سے بڑا سرپرائز سعودی عرب کا بدلا ہوا موقف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس، سعودی عرب اب ایران کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کا حصہ بننے کو تیار نہیں ہے۔ ایک اہم سفارتی واقعے کے مطابق، سعودی شاہ سلمان نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو ایک خصوصی خط لکھا۔ یہ پیغام سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان خود لے کر گئے، جس میں ایران کو یقین دلایا گیا کہ سعودی عرب ان کے خلاف کسی بھی جارحیت میں دشمن کا ساتھ نہیں دے گا بلکہ ایران کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہوگا۔
مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور چین کا غیر اعلانیہ اتفاقِ رائے اسرائیل کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ بیرونی دشمنوں سے لڑنے کے لیے اندرونی استحکام پہلی شرط ہے۔
سینیئر سیاستدان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت ڈنڈے کے بجائے ڈائیلاگ اور ایک ہیلنگ ٹچ کی ضرورت ہے۔ ہمیں ترکی کی مثال سے سیکھنا چاہیے جس نے دانشمندی سے اپنی 40 سالہ گوریلا جنگ کا خاتمہ کیا۔ پی ٹی آئی جیسی بڑی عوامی قوت کو دیوار سے لگانے کے بجائے قومی دھارے میں شامل کرنا ضروری ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












