پاک افغان کشیدگی اور قطری ثالثی : وزیراعظم کا ہائی پروفائل دورہ دوحہ نتائج لائے گا

وزیراعظم شہباز شریف کا دو روزہ دورہ قطر بظاہر سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم سفارتی حلقوں اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس دورے کے پس منظر میں محض معاشی ایجنڈا نہیں بلکہ گہرے تزویراتی اور سیکیورٹی معاملات بھی شامل ہیں، خصوصاً افغان طالبان سے متعلق پاکستان کے تحفظات جنہیں دوحہ کی قیادت کے سامنے اٹھایا گیا ہوگا۔
تجزیہ نگار میاں آصف کے مطابق ایئرپورٹ پر قطر کے مایہ ناز ٹربل شوٹر اور وزیر مملکت برائے خارجہ امور محمد بن عبدالعزیز الخلیفی کی جانب سے کیا جانے والا استقبال وزیر اعظم کے اس دورے کے پس پردہ گہرے تزویراتی مقاصد کی نشاندہی کر رہا ہے۔
الخلیفی وہی شخصیت ہیں جو حماس اسرائیل مذاکرات، ایران امریکہ تعلقات اور لبنان کے سیاسی بحرانوں سمیت قطر کا گھیراؤ ختم کرانے جیسے حساس معاملات میں خاموشی سے کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے وکیل ہونے کے ناطے وہ قطر کے انٹیلی جنس و سیکیورٹی امور میں وزیراعظم کی معاونت کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ اور قطری امیر کے درمیان رابطہ، کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششوں پر زور
امیر قطر کی دعوت پر ہونے والے اس اچانک دورے کے بارے میں سفارتی حلقوں میں یہ تاثر ہے کہ امیر قطر سے باقاعدہ ملاقات سے قبل اہم نوٹس کا تبادلہ ہوا، جس کا براہ راست رخ پاک افغان تعلقات میں بڑھتی ہوئی حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کی جانب دکھائی دیتا ہے۔
یہاں یہ پہلو بھی اہم ہے کہ قطر اب تک افغان طالبان کی درخواست پر ہی ثالثی کے لیے سرگرم ہوا ہے، جن کی قیادت کی طویل عرصے تک دوحہ میں مقیم رہنے کے دوران قطری حکومت نے ہر ممکن مالی و سفارتی معاونت بھی فراہم کی تھی۔
اگرچہ وزیراعظم کا یہ دورہ انتہائی ہائی پروفائل ہے لیکن اس کے فوری نتائج برآمد ہونا اس لیے مشکل دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستان کی سفارتکاری اب بڑی حد تک ملٹری ڈپلومیسی کا رنگ اختیار کر چکی ہے اور پاکستان نے بظاہر یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی چیلنجز سے فوجی انداز میں ہی نمٹے گا۔
دوحہ میں ملا یعقوب کے مصالحانہ رویے اور استنبول مذاکرات کی ناکامی کے تناظر میں یہ امکان کم ہی ہے کہ پاکستان اپنے سخت موقف سے پیچھے ہٹے گا، خاص طور پر جب وہ مشرق وسطیٰ میں خود کو ایک ٹربل شوٹر کے طور پر منوانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے پاس پسپائی کے اختیارات انتہائی محدود ہو چکے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, تجزیہ و بلاگز News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








