آپریشن غضب للحق : ٹی ٹی پی لیڈر نور ولی محسود کے مارے جانے کی اطلاعات، افغان طالبان آپس میں لڑ پڑے

افغان ذرائع سے آنے والی اطلاعات کے مطابق آپریشن غضب للحق میں پاکستان نے افغانستان کے اندر متعدد شہروں بشمول کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار اور کنڑ میں دشمن کے ٹھکانوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ کابل میں وزیر اکبر خان، ارزان قیمت، دارالامان، خوشحال خان اور کابل ہوائی اڈے کے قریبی علاقوں میں شدید بمباری کی گئی۔
کنڑ کے اضلاع مروارہ اور شیلٹن کے علاوہ گردیز اور قندھار شہروں میں بھی طالبان کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کا سرغنہ نور ولی محسود کابل میں صدارتی محل کے قریب ایک رہائش گاہ میں موجود تھا جو پاکستانی فضائیہ کی اس کارروائی میں اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
پاکستانی شاہینوں نے کابل کے مشرق میں پل چرخی کے علاقے میں واقع سب سے بڑے عسکری کمپلیکس کو نہایت درستی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں طالبان نے امریکہ کا چھوڑا ہوا بھاری اسلحہ، گولہ بارود، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں ذخیرہ کر رکھی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں : طورخم بارڈر پر پاک فوج کا منہ توڑ جواب، افغان طالبان کی پسپائی کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی
فضائی حملوں کے نتیجے میں یہ تمام عسکری ساز و سامان اور گودام راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے، جس سے طالبان کی جنگی صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ طالبان کی فدائین بریگیڈ کا سربراہ اور متعدد خودکش حملوں کا ماسٹر مائنڈ حامد خراسانی بھی پاک فوج کی اس کارروائی میں مارا گیا ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے کابل میں وزارت داخلہ، وزارت خارجہ اور گارڈز کے مرکزی اڈے پر بھی براہ راست حملے کیے گئے ہیں۔ اس اچانک اور شدید ضرب کے بعد افغان طالبان کی قیادت میں شدید افراتفری پھیل گئی ہے اور ان کے اندرونی گروہوں کے درمیان خونی تصادم شروع ہو گئے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر طورخم کے مقام پر پاک فوج کے جانبازوں نے افغان طالبان کے لیے ایک نہایت ہی ہوشیارانہ اور مہلک جال بچھایا۔ پاکستانی فورسز نے تزویراتی چال چلتے ہوئے اپنی ایک سرحدی چوکی کو بظاہر خالی چھوڑ دیا، لیکن اس کے اندر ریموٹ کنٹرول سے چلنے والے طاقتور دھماکہ خیز مواد چھپا دیئے۔
چالیس کے قریب افغان طالبان جنگجو یہ سمجھ کر کہ پاکستانی جوان ڈر کر چوکی چھوڑ گئے ہیں، بڑی تعداد میں وہاں داخل ہو گئے۔ جیسے ہی تمام جنگجو چوکی کے اندر جمع ہوئے، پاکستانی جوانوں نے دھماکہ خیز مواد کو اڑا دیا، جس کے نتیجے میں تیس طالبان موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ دس زخمیوں کو پاکستانی فورسز نے اپنی تحویل میں لے کر قیدی بنا لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کابل میں صدارتی محل اور وزارت دفاع کے گرد قندھاری اور کابلی طالبان کے گروہوں میں شدید فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو چکے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








