ہفتہ، 28-فروری،2026
ہفتہ 1447/09/11هـ (28-02-2026م)
تازہ ترین خبریں

افغان جارحیت کا عبرتناک انجام: 133 افغان طالبان کی ہلاکتیں اور 27 پوسٹوں کی مکمل تباہی، 9 پر پاکستانی قبضہ، 50 سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ، دو بریگیڈ اور دو کور ہیڈ کوارٹر ریت بن گئے

27 فروری, 2026 04:10

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی جانب سے مسلسل بلااشتعال فائرنگ اور جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کا "آپریشن غضب للحق” جاری ہے۔ اس آپریشن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچاتے ہوئے متعدد اہم چوکیوں کو فتح کر لیا گیا ہے اور پاکستانی سرحدوں کے دفاع کو مزید مستحکم کر دیا گیا ہے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے کی جانے والی مسلسل اشتعال انگیزی اور جارحیت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج کا آپریشن غضب للحق جاری ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی برق رفتار اور بھرپور جوابی کارروائی نے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانوں کو نیست و نابود کر دیا ہے۔

افغان طالبان نے باجوڑ کے ناوگئی، خیبر کے تیراہ، مہمند کے گرسال اور چترال سیکٹر سمیت مختلف مقامات پر فائرنگ کر کے اشتعال انگیزی کی کوشش کی تھی، جس پر پاکستان کی افواج نے دندان شکن جواب دیا۔

اس معرکے میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق 133 افغان طالبان ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

پاکستانی افواج نے غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ مجموعی طور پر 27 افغان پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور 9 اہم سرحدی پوسٹوں پر قبضہ کر کے وہاں پاکستان کا قومی پرچم لہرا دیا ہے۔

ان فتح کی جانے والی پوسٹوں میں پانچ پوسٹیں پکتیا کے علاقے میں ہیں، جن میں سے دو شوال، دو انگور اڈہ اور ایک زرملان کے سامنے واقع ہے، جبکہ ایک اہم پوسٹ ٹاپسر سیکٹر میں بھی قبضے میں لی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : طورخم بارڈر پر پاک فوج کا منہ توڑ جواب، افغان طالبان کی پسپائی کی ویڈیو منظرِ عام پر آ گئی

پاک فضائیہ نے بھی اس آپریشن میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے ننگرہار، قندھار اور کابل میں دشمن کے بارود کے ذخائر اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

کابل میں دو بریگیڈ ہیڈ کوارٹر، قندھار میں ایک کور ہیڈ کوارٹر اور پکتیا میں بھی ایک کور ہیڈ کوارٹر کو فضائی حملوں میں تباہ کر دیا گیا۔ قندھار میں افغان طالبان کا ایک بڑا ایمونیشن ڈپو اور لاجسٹکس بیس بھی ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ زمینی کارروائیوں میں دشمن کے پچاس سے زائد ٹینک، توپ خانہ اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کر دی گئی ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی تھی، لیکن پاکستان کے جدید دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی گرا دیا۔

دشمن کے حمایت یافتہ فتنہ الخوارج نے ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں بھی ڈرونز کے ذریعے مداخلت کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

اپنی عبرتناک شکست اور ہزیمت کو چھپانے کے لیے افغان طالبان نے معصوم سول آبادی کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ باجوڑ کے سرحدی علاقوں لغڑئی اور گرد و نواح میں سرحد پار سے فائر کیے گئے مارٹر گولوں کے نتیجے میں خواتین سمیت پانچ شہری زخمی ہوئے، جنہیں فوری طور پر خار اسپتال منتقل کیا گیا۔

دشمن کی اس شیلنگ سے ایک مقامی مسجد کی چھت کو بھی شدید نقصان پہنچا جو ان کی اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔

دوسری جانب پاک فوج نے دوران جنگ بھی اعلیٰ اخلاقی و دینی اقدار کا پاس رکھا اور مفتوحہ پوسٹوں سے افغان پرچم کو انتہائی احترام سے اتار کر وہاں پاکستانی جھنڈا بلند کیا۔

اس آپریشن کے دوران وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے پاک فوج کے دو جوانوں نے جام شہادت نوش کیا ہے، جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر اپنی گاڑیاں اور سامان چھوڑ کر فرار ہو رہا ہے۔

 

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔