ہفتہ، 7-مارچ،2026
ہفتہ 1447/09/18هـ (07-03-2026م)

اسلام آباد: احتساب عدالت کا بڑا فیصلہ، بحریہ ٹاؤن کے سی او او کرنل (ر) خلیل الرحمٰن کو 10 سال قید

07 مارچ, 2026 19:09

اسلام آباد میں منی لانڈرنگ کے ایک اہم مقدمے میں احتساب عدالت نے بڑا فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کرنل (ر) خلیل الرحمٰن کو سزا سنا دی۔ عدالت نے تقریباً 1.6 سے 1.7 ارب روپے کی منی لانڈرنگ ثابت ہونے پر ملزم کو 10 سال قیدِ بامشقت، 25 ملین روپے جرمانہ اور غیر قانونی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کے مطابق حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے غیر قانونی رقوم بیرونِ ملک منتقل کی گئیں جس سے مالیاتی نظام کو نقصان پہنچا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے مالیاتی جرائم سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں اور ریاست ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رکھے گی۔

احتساب عدالت کے جج نصر من اللہ نے مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کی بنیاد پر ملزم کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق 2007 سے بحریہ ٹاؤن سے منسلک رقوم مبینہ طور پر حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے بیرونِ ملک منتقل کی جاتی رہیں۔ اس حوالے سے Federal Investigation Agency کی تحقیقات اور متعدد ایف آئی آرز کے بعد مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

یہ مقدمہ ایف آئی آر نمبر 19/25 کے تحت اگست 2025 میں اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے دستاویزی شواہد اور 12 گواہوں کے بیانات کا جائزہ لینے کے بعد چھ ماہ سے کم عرصے میں ٹرائل مکمل کیا، جسے ایف آئی اے اسلام آباد سرکل کا پہلا منی لانڈرنگ مقدمہ قرار دیا جا رہا ہے جو منطقی انجام تک پہنچا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس کیس میں ملک ریاض، علی ریاض اور شاہد قریشی سمیت دیگر افراد کو پہلے ہی اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ مالیاتی جرائم کے خلاف ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اثر و رسوخ یا طاقت کے باوجود قانون سے بچنا ممکن نہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔