اتوار، 8-مارچ،2026
اتوار 1447/09/19هـ (08-03-2026م)

افغان طالبان کا پاکستان مخالف مظاہروں میں کم عمر بچوں کا زبردستی استعمال

08 مارچ, 2026 14:03

افغان طالبان حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف مظاہروں کو ہوا دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے کم عمر بچوں اور مزدور طبقے کو احتجاج میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

افغان طالبان حکومت کے خلاف یہ الزامات سامنے آئے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی مشکلات اور ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان مخالف بیانیے کو فروغ دے رہی ہے اور اس مقصد کے لیے معاشرے کے کمزور طبقات کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق افغان صوبہ غور سمیت مختلف علاقوں میں بچوں اور مزدور طبقے کو پاکستان کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ان مظاہروں میں کم عمر بچوں کو بھی شامل کیا گیا، جہاں انہیں پاکستان مخالف نعرے لگانے اور احتجاجی سرگرمیوں کا حصہ بنایا گیا۔

افغان خبر رساں ادارے آماج نیوز کے مطابق متعدد مقامات پر ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے جن میں بچوں کو نمایاں طور پر استعمال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : آپریشن غضب للحق؛ پاک فوج کی فضائی کارروائی، افغان طالبان کی متعدد پوسٹیں تباہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان حکومت میں موجود شدت پسند عناصر نوجوان نسل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو اس طرح کے احتجاجی مظاہروں میں شامل کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ ایک خطرناک رجحان بھی ہے جو معاشرے پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب افغان طالبان پر اس نوعیت کے الزامات لگے ہوں۔ ماضی میں بھی یہ رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ طالبان اپنی سرگرمیوں اور حملوں میں بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق معصوم بچوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ایک انتہائی خطرناک اور قابل مذمت عمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں اور عالمی برادری کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔