پیر، 9-مارچ،2026
پیر 1447/09/20هـ (09-03-2026م)

پاکستان کی افغانستان میں کارروائیوں میں پانچ سو سے زائد دہشت گرد ہلاک ہوئے، امریکی دفاعی تجزیہ نگار

08 مارچ, 2026 15:48

امریکی دفاعی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حالیہ بمباری کے دوران طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے پانچ سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔

امریکی دفاعی تجزیہ کار سارہ ایڈمز نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور وہاں سرگرم شدت پسند تنظیموں کے بارے میں اہم دعوے اور سوالات اٹھائے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران افغانستان میں ہونے والی پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں طالبان کے پانچ سو سے زائد دہشت گرد مارے گئے، جبکہ پانچ سو سے زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

سارہ ایڈمز کے مطابق ان کارروائیوں میں القاعدہ، بلوچ لبریشن آرمی، تحریک طالبان پاکستان اور غالب امکان ہے کہ اسلامی تحریک ازبکستان سے تعلق رکھنے والے افراد بھی مارے گئے ہوں۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی درست شناخت کرنا مشکل ہے کیونکہ افغانستان میں موجود کئی دہشت گرد کیمپوں اور طالبان کے فوجی مراکز کے گرد سخت راز داری برقرار رکھی جاتی ہے اور وہاں تک رسائی محدود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ہفتے افغانستان میں ہونے والی بمباری کا بڑا حصہ اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنانے پر مرکوز تھا۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ کارروائیوں کا ہدف بنیادی طور پر ہتھیاروں کے ذخائر تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں کی فضائی اور سیٹلائٹ تصاویر کا تفصیلی جائزہ لیتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے جن اسلحہ کے ذخائر کا مطالعہ کیا، وہاں کسی بھی مقام پر بچوں کی موجودگی کے شواہد نہیں ملے۔ جیسا کہ افغان طالبان دعویٰ کر رہے ہیں۔

سارہ ایڈمز نے افغان سماجی کارکنوں اور بعض حلقوں کے بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان حلقوں کی جانب سے اکثر ایسے بیانات سامنے آتے ہیں جو حقیقت کے برعکس ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عناصر بعض اوقات عالمی اداروں کو بھی غلط معلومات فراہم کرتے ہیں اور زمینی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بیس برسوں کے دوران مغربی دنیا کو افغانستان کے بارے میں ایک مخصوص اور محدود بیانیہ پیش کیا جاتا رہا۔ اس بیانیے میں یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف سرحد کے دوسری جانب موجود ہے جبکہ افغانستان کے اندر موجود نیٹ ورکس کو اکثر نظر انداز کیا گیا یا کم اہمیت دی گئی۔

سارہ ایڈمز کے مطابق اس دوران کئی دہشت گرد نیٹ ورکس کو نظر انداز کیا گیا اور بعض صورتوں میں انہیں خاموشی سے برداشت بھی کیا جاتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہی عناصر بعد میں طاقت حاصل کر کے افغانستان کے اندر دوبارہ منظم ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان میں کارروائی سے بلوچستان میں امن قائم، پاکستان کا مؤقف درست ثابت

انہوں نے کہا کہ ایک عجیب صورتحال یہ بھی رہی کہ جب افغانستان میں انہی عناصر نے اقتدار حاصل کیا تو پھر مغربی ممالک سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ انہی لوگوں کو بچانے یا نکالنے میں مدد کریں جو دو دہائیوں تک ان دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں اصل حقائق چھپاتے رہے تھے۔

امریکی دفاعی تجزیہ کار کے مطابق یہ دوہرا طرز عمل زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص مغربی ممالک میں محفوظ بیٹھ کر دہشت گرد نیٹ ورکس کے لیے پردہ پوشی کرے تو اسے امن کا داعی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

سارہ ایڈمز نے مزید کہا کہ گزشتہ برسوں میں امریکی شہری بارہا ایسے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے، جن کی منصوبہ بندی افغانستان میں تربیت حاصل کرنے والے عناصر نے کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کیونکہ کئی افراد اور حلقوں نے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں سچ چھپایا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران افغانستان میں ایک سو سے زائد دہشت گرد تربیتی کیمپ قائم ہوئے جبکہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے وقت ایسے کیمپوں کی تعداد صرف آٹھ کے قریب تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی ملک میں دہشت گردوں کے اتنے زیادہ تربیتی مراکز قائم ہو جائیں تو وہاں کے لوگ اس صورتحال کے خلاف بلند آواز میں احتجاج کریں گے۔ تاہم افغانستان کے معاملے میں طویل عرصے تک اس حقیقت کو دنیا کے سامنے پوری طرح نہیں لایا گیا۔

سارہ ایڈمز کا کہنا تھا کہ افغانستان نہ صرف دہشت گردی کا شکار رہا بلکہ دو مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ وہ دنیا بھر کے دہشت گردوں کے لیے ایک بڑی محفوظ پناہ گاہ بن گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ صورتحال کسی حادثے یا غلطی کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں کی پالیسیوں اور خاموشیوں کا نتیجہ ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔