چترال میں انٹرنیٹ کی سست رفتار پر حکام سے وضاحت طلب

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن پلوشہ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں چترال میں انٹرنیٹ کی سست رفتار اور موبائل سروس کی ناقص صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونی کیشن کے اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اس وقت چترال کے عوام کو سب سے بڑے مسئلے کا سامنا انٹرنیٹ کی سست رفتار کی صورت میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے پاس یونیورسل سروس فنڈ کی مد میں اربوں روپے موجود ہیں لیکن اس کے باوجود دور دراز علاقوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔
سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ لوئر اور اپر چترال میں انٹرنیٹ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چترال میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، موبائل سروس بھی غائب ہو جاتی ہے، جو مقامی آبادی کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہ قراقرم بند، گلگت بلتستان کا زمینی رابطہ منقطع
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جو ٹیلی کمیونی کیشن ٹاور دن کے وقت فعال ہوتے ہیں انہیں رات کے وقت بھی فعال رکھا جائے تاکہ صارفین کو مسلسل سہولت فراہم کی جا سکے۔
اس موقع پر وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری نے بتایا کہ چترال کے لیے یونیورسل سروس فنڈ کے تحت آپٹیکل فائبر منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹو افسر نے کہا کہ اگر چترال کے ایسے علاقوں کی نشاندہی کر دی جائے، جہاں انٹرنیٹ کا مسئلہ زیادہ ہے تو انہیں آئندہ منصوبوں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرپرسن کمیٹی پلوشہ خان نے دور دراز علاقوں میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ کے مسائل کے حل کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز پیش کی۔
بعد ازاں سینیٹر سعدیہ عباسی کو اس ذیلی کمیٹی کا کنوینئر مقرر کر دیا گیا، جو انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کے مسائل کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









