سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف، ایران پر حملے ناقابل قبول قرار

سلامتی کونسل میں پاکستان نے ایران پر ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات عالمی امن اور خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے ایران پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حملوں سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی امن بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔
عاصم افتخار نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان برادر ملک ایران کی سلامتی اور خودمختاری کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کسی بھی ملک کے خلاف غیر ضروری فوجی کارروائیوں کو قابل قبول نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں کے نتیجے میں خطے کو ایک بڑے تنازع کی طرف دھکیل دیا گیا ہے، جس کے اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں شدید انسانی بحران پیدا ہوسکتا ہے اور خطے کے عوام کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے دوران ایک سو چالیس امریکی فوجی زخمی ہوئے، پینٹاگون کی تصدیق
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں بحرین اور روس کی جانب سے پیش کی جانے والی قراردادوں کی حمایت کی ہے کیونکہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی حمایت پر مبنی رہا ہے۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک کی سرزمین پر حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو کسی صورت متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام ممالک کشیدگی کم کرنے اور امن کی بحالی کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












