جمعہ، 13-مارچ،2026
جمعہ 1447/09/24هـ (13-03-2026م)

ایران سے سرحدی تجارت بند ہونے سے بلوچستان میں پیٹرول و ڈیزل کا بحران

13 مارچ, 2026 10:16

بلوچستان میں دہائیوں سے ایرانی پیٹرول و ڈیزل کی غیر رسمی فراہمی صوبے کی معیشت کا اہم حصہ رہی ہے، تاہم حالیہ جنگ اور سرحدی بندشوں نے اس نظام کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

بلوچستان میں طویل عرصے سے ایرانی پیٹرول و ڈیزل صوبے کی معیشت کا بنیادی حصہ بنا ہوا ہے۔ اندازوں کے مطابق صوبے میں استعمال ہونے والے تقریباً اسی فیصد پیٹرول کی فراہمی سرحدی علاقوں کے غیر رسمی راستوں کے ذریعے ہوتی رہی ہے۔

قومی سطح پر دیکھا جائے تو ایران سے آنے والا اسمگل شدہ پیٹرول اور ڈیزل ملک کی روزانہ تیل کی ضرورت کا تقریباً پینتیس فیصد پورا کرتا ہے۔ اس غیر رسمی تجارت کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تقریباً دو سو ستائیس ارب روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عالمی نظام ٹوٹ چکا، پاکستان اور ایران نئی طاقتیں بنیں گے، مشاہد حسین

اس تجارت کی بنیادی وجہ قیمتوں میں نمایاں فرق ہے۔ سرکاری قیمت پر فروخت ہونے والا پٹرول تقریباً دو سو چھیاسٹھ روپے فی لیٹر ہے جبکہ ایرانی ایندھن تقریباً ایک سو بہتر روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوتا ہے۔

سرحدی علاقوں میں روزگار کے محدود مواقع کے باعث ہزاروں افراد اسی تجارت سے وابستہ ہیں۔ پنجگور اور ماشکیل جیسے علاقوں میں روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اس ایندھن کی نقل و حمل میں مصروف رہتی ہیں۔

تاہم حالیہ جنگ کے بعد سرحدی راستے بند ہونے سے بلوچستان کے کئی اضلاع میں پٹرول پمپ بند ہو گئے اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو گئی۔

اطلاعات کے مطابق صوبے کے ساٹھ سے ستر فیصد پٹرول پمپ عارضی طور پر بند ہو گئے جبکہ بلیک مارکیٹ میں قیمتیں تین سو روپے فی لیٹر تک پہنچ گئیں۔

Catch all the پاکستان News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔