روسی تیل پاکستان کیلئے کیوں مہنگا پڑتا ہے؟

توانائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل بظاہر سستا ہونے کے باوجود پاکستان کے لیے کئی تکنیکی اور معاشی وجوہات کی بنا پر مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے روس سے تیل درآمد کرنا بظاہر سستا نظر آتا ہے مگر حقیقت میں یہ کئی اضافی اخراجات کی وجہ سے مہنگا پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے پاکستان کا فاصلہ تقریباً تیرہ سو کلومیٹر ہے جبکہ روسی بندرگاہوں سے یہ فاصلہ آٹھ ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس طویل فاصلے کی وجہ سے جہاز رانی کے اخراجات نمایاں طور پر بڑھ جاتے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی بندرگاہیں روس سے آنے والے انتہائی بڑے تیل بردار جہازوں کو براہ راست سنبھالنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا جارحانہ جوابی وار، عالمی توانائی بحران سے فائدہ اٹھانے کیلئے روس متحرک
اس وجہ سے اکثر تیل کو عمان جیسے مقامات پر چھوٹے جہازوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے فی بیرل دو سے تین ڈالر اضافی خرچہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق روسی خام تیل کی نوعیت بھی مختلف ہے کیونکہ یہ نسبتاً بھاری اور زیادہ گندھک والا ہوتا ہے۔ پاکستانی ریفائنریاں اسے مکمل طور پر صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور اسے خلیجی تیل کے ساتھ ملا کر صاف کرنا پڑتا ہے۔
اس عمل کے نتیجے میں فرنس آئل کی پیداوار زیادہ ہو جاتی ہے جبکہ پاکستان کو پٹرول اور ڈیزل کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ریفائنریوں کو بعض اوقات نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل پاکستان کے لیے اس وقت ہی واقعی سستا ہو سکتا ہے، جب روس کی جانب سے فراہم کی جانے والی رعایت ان تمام اضافی اخراجات سے زیادہ ہو۔
Catch all the پاکستان News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










