لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والوں کیلئے بڑا فیصلہ ہوگیا

Big Decision Announced for Licensed Firearm Holders
پنجاب حکومت نے صوبے میں غیر قانونی اسلحہ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے نیا قانون پنجاب سرنڈر آف الیسیٹ آرمز ایکٹ 2026 کا ڈرافٹ اسمبلی کو بھجوا دیا گیا ہے۔ قانون کی منظوری اور گورنر پنجاب کے دستخط کے بعد اسے باقاعدہ نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور غیر قانونی ہتھیاروں کا خاتمہ کرنا ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت غیر قانونی اسلحہ رکھنے والوں کو 15 دن کی مہلت دی جائے گی۔ اس دوران وہ اپنا اسلحہ قریبی پولیس اسٹیشن میں جمع کروا سکیں گے۔ جو افراد مقررہ مدت میں اسلحہ جمع کروائیں گے، ان کے خلاف ماضی کے قبضے پر قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔
پولیس اسلحہ وصول کرنے کے بعد باقاعدہ رسید جاری کرے گی اور مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔ حکومت کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی اضافی ہتھیار یا مواد کو غیر قانونی قرار دے سکے۔
ذرائع کے مطابق نئے قانون میں خطرناک ہتھیاروں کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ان میں خودکار ہتھیار، مشین گنز، گرنیڈ، توپ اور دھماکہ خیز مواد شامل ہیں۔ مقررہ مدت کے بعد اگر کوئی شخص غیر قانونی اسلحہ رکھتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
سنگین نوعیت کے دھماکہ خیز مواد یا توپ رکھنے پر عمر قید اور جائیداد کی ضبطگی تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ خودکار ہتھیار رکھنے پر کم از کم 10 سال قید سے لے کر عمر قید تک سزا دی جائے گی۔ اسی طرح رائفل یا پستول رکھنے پر 3 سے 14 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
قانون میں لائسنس یافتہ اسلحہ رکھنے والوں کے لیے بھی واضح ہدایات شامل کی گئی ہیں۔ اگر کوئی شہری رضاکارانہ طور پر اپنا قانونی اسلحہ پولیس کے پاس جمع کروانا چاہے تو اسے بھی وصول کیا جائے گا اور باقاعدہ ریکارڈ بنایا جائے گا۔ فوت شدہ لائسنس ہولڈر کے وارث 7 دن کے اندر متعلقہ درخواست دے سکیں گے۔ جانچ کے بعد اگر لائسنس منسوخ ہو جائے تو اسلحہ قریبی تھانے میں جمع کروانا لازمی ہوگا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر ضلع میں خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ یہ عدالتیں اسلحہ سے متعلق مقدمات کا فیصلہ 45 دن کے اندر کرنے کی پابند ہوں گی۔ غیر قانونی اسلحہ کے کیسز کو قابل دست اندازی اور ناقابل ضمانت قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ حکومت اس قانون کے نفاذ کے لیے آگاہی مہم بھی چلائے گی۔ اس مقصد کے لیے میڈیا کا سہارا لیا جائے گا۔
نیا قانون 1991 کے پرانے سرنڈر آف الیسیٹ آرمز ایکٹ کی جگہ لے گا۔ اس اقدام سے صوبے میں امن کی فضا بہتر ہوگی اور غیر قانونی ہتھیاروں کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












