وزیر اعظم کا کفایت شعاری اقدامات پر سختی کا فیصلہ، نگرانی انٹیلی جنس بیورو کو سونپ دی

وفاقی حکومت نے ایندھن کے بڑھتے اخراجات اور معاشی دباؤ کے پیش نظر سرکاری اداروں میں کفایت شعاری کے اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں انٹیلی جنس بیورو کو اہم ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔
وزیر اعظم نے سرکاری اداروں میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس بیورو کو خصوصی ذمہ داری سونپ دی ہے۔
اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق انٹیلی جنس بیورو مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری اداروں میں ایندھن بچت کے اقدامات کا جائزہ لے گا اور اس کا باقاعدہ آڈٹ بھی کرے گا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انٹیلی جنس بیورو کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وزیر اعظم کو ایندھن بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پر ہفتہ وار رپورٹس پیش کرے۔
ان رپورٹس میں یہ بتایا جائے گا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر کس حد تک عمل ہو رہا ہے اور کہاں خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سابق قطری وزیر اعظم کی خلیجی ممالک کو فوجی اتحاد بنانے اور پاکستان سے دفاعی تعلقات کی تجویز
حکومت کی جانب سے ایندھن کے استعمال میں کمی کے لیے متعدد اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی، ہفتے میں چار دن دفتری اوقات کار اور دیگر انتظامی اقدامات شامل ہیں۔ آئی بھی ان تمام اقدامات کی تصدیق اور نگرانی کرے گیْ
حکام کے مطابق اگر کسی وزارت یا سرکاری ادارے میں ایندھن بچت کے احکامات پر عمل نہ کیا گیا تو متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ اگر کسی افسر نے ماتحت اداروں کی گاڑیوں کا غیر قانونی یا غیر ضروری استعمال کیا تو اس کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق موجودہ معاشی حالات میں حکومت اخراجات کم کرنے اور وسائل کے بہتر استعمال کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی اخراجات کے باعث سرکاری اداروں کو کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










