فنڈز کا انتظار کرتے کرتے خیبرپختونخوا کا چار سالہ بلدیاتی نظام اپنی مدت پوری کرگیا

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی اداروں کی چار سالہ مدت مکمل ہونے کے بعد آج یہ نظام اختتام کو پہنچ گیا ہے، بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات ضلعی انتظامیہ کو منتقل کر دیئے گئے۔
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں منتخب بلدیاتی نمائندے اپنی چار سالہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے اختیارات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دیئے۔ حکومتی فیصلے کے مطابق پیر کے روز سے بلدیاتی اداروں کے انتظامی اور مالی اختیارات ضلعی حکام کے پاس منتقل ہوگئے۔
صوبے میں بلدیاتی انتخابات دو مرحلوں میں منعقد ہوئے تھے۔ پہلے مرحلے کے انتخابات اکتیس دسمبر دو ہزار اکیس کو صوبے کے سترہ اضلاع میں ہوئے تھے۔
اس مرحلے میں جمعیت علماء اسلام نے نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے تئیس تحصیل چیئرمین کی نشستیں جیتیں جبکہ تحریک انصاف سولہ نشستوں پر کامیاب ہوئی تھی۔
دوسرے مرحلے میں ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف نے بہتر کارکردگی دکھائی اور انتیس تحصیل چیئرمین کی نشستیں حاصل کیں، جبکہ جمعیت علماء اسلام اور اس کے اتحادیوں کو بارہ نشستیں مل سکیں۔
بلدیاتی نظام کے دوران صوبائی بجٹ میں مجموعی طور پر ایک سو چھپن ارب چالیس کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔ مالی سال دو ہزار اکیس بائیس کے بجٹ میں بندوبستی اضلاع کے لیے پندرہ ارب روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے دو ارب چالیس کروڑ روپے مختص کئے گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا حکومت کا اخراجات میں بیس فیصد کمی کا فیصلہ
اسی طرح مالی سال دو ہزار بائیس تئیس میں بندوبستی اضلاع کے لیے سینتیس ارب روپے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے چار ارب روپے رکھے گئے تھے۔
مالی سال دو ہزار تئیس چوبیس میں بندوبستی اضلاع کے لیے سترہ ارب روپے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے پانچ ارب بیس کروڑ روپے مختص کئے گئے جبکہ مالی سال دو ہزار چوبیس پچیس میں بندوبستی اضلاع کے لیے چوبیس ارب روپے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے چھ ارب روپے مختص کیے گئے۔
اسی طرح مالی سال دو ہزار پچیس چھبیس میں بندوبستی اضلاع کے لیے انتالیس ارب روپے اور ضم شدہ اضلاع کے لیے چھ ارب ساٹھ کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔
تاہم حیران کن طور پر چار سال کے دوران مختص کیے گئے اس بڑے بجٹ میں سے بلدیاتی اداروں کو بہت کم رقم جاری کی جا سکی۔ مجموعی طور پر ایک سو چھپن ارب روپے سے زائد کی رقم میں سے صرف تین ارب ساٹھ کروڑ روپے ہی بلدیاتی نمائندوں کو فراہم کیے گئے۔
مالی سال دو ہزار اکیس بائیس میں مختص پندرہ ارب روپے میں سے صرف دو ارب چالیس کروڑ روپے جاری ہوئے، جبکہ دو ہزار بائیس تئیس میں سینتیس ارب روپے میں سے صرف ایک ارب بیس کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔
قانون کے مطابق ترقیاتی فنڈز کا بیس فیصد حصہ بلدیاتی اداروں کو فراہم کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم چار سال کے دوران یہ شرط بھی پوری نہ ہو سکی۔
بلدیاتی نمائندوں نے بارہا اپنے حقوق کے لیے احتجاج کئے اور حکومت سے فنڈز جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کے دور سے لے کر موجودہ حکومت تک بلدیاتی نمائندے کئی مرتبہ سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے مگر انہیں خاطر خواہ فنڈز فراہم نہ کیے جا سکے۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث بلدیاتی ادارے اپنے بنیادی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل نہ کر سکے، جس کے نتیجے میں عوام کو مقامی سطح پر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔
اب بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے بعد صوبے میں نئے بلدیاتی انتخابات اور مستقبل کے نظام کے حوالے سے حکومتی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










