بحرِ احمر سے تیل کی ترسیل میں 12 روز لگتے ہیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہے، سیکریٹری پٹرولیم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کے اجلاس میں ملک کو درپیش توانائی بحران اور تیل کی عالمی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تیل کی ترسیل میں نمایاں تاخیر ہو رہی ہے۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے پاکستان تک تیل کے جہاز عام حالات میں چار دن کے اندر پہنچ جاتے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں متبادل راستے استعمال کرنے کی وجہ سے تیل کی ترسیل میں نمایاں تاخیر ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بحرِ احمر کے راستے تیل منگوانے میں تقریباً بارہ دن لگ رہے ہیں، جس سے سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ اگر سعودی عرب کی کسی آئل ریفائنری پر حملہ ہوتا ہے تو تیل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے جس سے عالمی منڈیوں میں مزید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں جنگ سے پہلے خام تیل کی قیمت بہتر ڈالر فی بیرل کے قریب تھی تاہم جنگ شروع ہونے کے بعد قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور دوسرے ہی دن قیمت اٹھاسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت ایک سو پندرہ ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ایران کا تیل ذخائر پر اسرائیلی حملوں کو جنگی جرم قرار دینے کا مطالبہ
سیکریٹری پٹرولیم نے بتایا کہ ملک میں اس وقت خام تیل کے ذخائر گیارہ دن کے لیے موجود ہیں، جبکہ ڈیزل کے ذخائر اکیس دن کے لیے کافی ہیں۔ اسی طرح پیٹرول کے ذخائر ستائیس دن اور مائع گیس کے ذخائر نو دن کے لیے موجود ہیں۔ جیٹ ایندھن کے ذخائر چودہ دن کے لیے دستیاب ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت روس سے تیل خریدنے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے، جبکہ ایران سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کی اجازت حاصل کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
اگر اجازت مل گئی تو پاکستان کے چار تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے قریب موجود ہیں، جو فوری طور پر ملک کے لیے تیل لے کر روانہ ہو سکیں گے۔
حکام کے مطابق وزیر اعظم کی ہدایت پر ایک وزارتی کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
Catch all the پاکستان News, کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










