جمعہ، 20-مارچ،2026
جمعہ 1447/10/01هـ (20-03-2026م)

بلوچستان میں خواتین کا استحصال اور بی وائے سی کا کردار

19 مارچ, 2026 15:40

 

بلوچستان میں ماضی میں خواتین کی جانب سے خودکش حملوں کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ صوبے میں شورش کی تاریخ 1947 سے چلی آرہی ہے، مگر اس دوران کسی خاتون کے خودکش دھماکے کا واقعہ سامنے نہیں آیا۔

سن 2020 میں بی وائے سی (BYC) کے قیام کے بعد صورتحال میں تبدیلی دیکھنے میں آئی۔ 2022 میں اعلیٰ تعلیم یافتہ شاری بلوچ نے کراچی یونیورسٹی میں خودکش حملہ کیا۔ اس کے بعد سمعیہ قلندرانی، ماہکان بلوچ، ماہل بلوچ، زرینہ رفیق بلوچ، ہوا بلوچ اور آسیہ مینگل سمیت کئی خواتین خودکش حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی متعدد خواتین بی ایل اے کے کیمپس میں موجود ہیں اور ان کی تربیتی ویڈیوز بھی جاری کی جاتی رہی ہیں۔

مبصرین کے مطابق بی وائے سی بظاہر لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے مسائل اٹھاتی ہے، لیکن بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پس پردہ یہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے لیے بھرتی کے ایک پلیٹ فارم کا کردار ادا کر رہی ہے۔

تنقید کرنے والوں کا موقف ہے کہ بی وائے سی کے پلیٹ فارم سے ریاستِ پاکستان کو قابض اور ظالم قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جس سے نوجوانوں خصوصاً خواتین میں ریاست کے خلاف جذبات پیدا ہوتے ہیں۔

اسی طرح صبیحہ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی تقاریر میں بلوچ راج اور مزاحمت کا ذکر کیا جاتا ہے، جسے ناقدین عسکریت پسندی کی طرف مائل کرنے والا بیانیہ قرار دیتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن خواتین نے خودکش حملے کیے، ان میں سے بعض کا کسی نہ کسی سطح پر بی وائے سی کے احتجاجی کیمپوں یا اس کے بیانیے سے تعلق رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تنظیم ایسے افراد کو متاثر کرتی ہے جنہیں بعد میں شدت پسند تنظیمیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔