اتوار، 22-مارچ،2026
اتوار 1447/10/03هـ (22-03-2026م)

امریکہ یا اسرائیل سے وجودی خطرہ ہوا تو پاکستان، بھارت کو نشانہ بنائے گا، سابق سفیر

22 مارچ, 2026 14:57

بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے پاکستان کو کسی وجودی فوجی خطرے کا سامنا کرنا پڑا، تو پاکستان بھارت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

مغربی ایشیا میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جاری جنگ کے دوران بھارت میں 2014 سے 2017 تک پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے ایک انتہائی اہم اور سنسنی خیز بیان دیا ہے۔

انہوں نے ایک ‘بدترین منظرنامے’ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اگر خطے کی جنگ کے دوران امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے پاکستان کی سالمیت کو براہِ راست خطرہ لاحق ہوا یا ان کی طرف سے کسی فوجی کارروائی کی کوشش کی گئی، تو پاکستان اس کا جواب بھارت کو نشانہ بنا کر دے سکتا ہے۔ ہم ممبئی یا نیو دہلی میں حملہ کرنے سے نہیں ہچکچائیں گے۔

عبدالباسط کا یہ بیان اس تزویراتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ بھارت، امریکہ اور اسرائیل کا ایک قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور کسی بھی بڑی علاقائی جنگ کی صورت میں بھارت کی سرزمین یا سہولیات کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سابق سفیر کے مطابق، پاکستان کے لیے ‘وجودی خطرہ’ وہ لمحہ ہوگا جب ریاست کی بقا داؤ پر لگ جائے، اور ایسی صورت میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کے لیے تمام آپشنز کھلے ہوں گے۔ ان کا اشارہ اس جانب تھا کہ پاکستان اپنے روایتی حریف بھارت کو دباؤ میں لا کر عالمی طاقتوں کو اپنی سرزمین پر مداخلت سے روکنے کی حکمت عملی اپنا سکتا ہے۔

سیکورٹی ماہرین کے مطابق یہ بیان ایسی حقیقت ہے، جو خطے کے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ چونکہ پاکستان کے میزائل براہِ راست امریکہ تک رسائی نہیں رکھتے، اس لیے جوابی کارروائی کے طور پر بھارتی شہروں کو نشانہ بنانا ایک تزویراتی مجبوری بن جاتا ہے۔

اس سوچ کے پیچھے یہ دلیل کارفرما ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی امریکی کارروائی کے پیچھے بھارت اور اسرائیل کی لابنگ اور اشتعال انگیزی شامل ہوگی، جیسا کہ ماضی میں کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر حملے کی بھارتی اور اسرائیلی کوششوں سے ثابت ہے۔

پاکستان کا دفاعی نظریہ "کم از کم قابلِ اعتبار دفاعی صلاحیت” پر مبنی ہے، جو کسی بھی جارحیت کی صورت میں دشمن کو مکمل تباہی کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت میں مظالم بند نہ ہوئے تو سکھ اپنی بقا کے لیے ہتھیار اٹھائیں گے، سکھ فار جسٹس

اگر پاکستان کی سیاسی یا فوجی قیادت پر اچانک حملہ کر کے اسے مفلوج کرنے کی کوشش کی جائے، تب بھی پاکستان کا "ڈیڈ ہینڈ” یعنی خودکار جوابی نظام سرگرم ہو جائے گا، جو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ایٹمی اثاثوں کے ذریعے دشمن کو نشانہ بنائے گا۔

پاکستان کی بحریہ کے پاس موجود اگوسٹا اور ہنگور کلاس کی آبدوزیں بھی بابر تھری جیسے ایٹمی میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو بحرِ ہند میں کسی بھی دشمن بیڑے کو نیست و نابود کر سکتے ہیں۔

یہ تمام منظرنامے محض فرضی نہیں بلکہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہیں، جو دشمن کو کسی بھی مہم جوئی سے باز رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام جارحانہ عزائم کے لیے نہیں بلکہ بقائے باہمی اور باہمی یقینی تباہی کے اصول پر مبنی ہے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔

دشمن ممالک اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے نتائج پورے خطے کی تباہی کی صورت میں نکلیں گے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔