پاکستان کا پورا نظام محض چار وزراء کے ہاتھوں میں ہے، ایم کیو ایم

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ پاکستان کے دروازے تک پہنچ چکی ہے اور قوم کو ہر بحران کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے ملکی اور علاقائی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات اب ہمارے دروازے تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے پوری قوم کو ذہنی طور پر کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم حکومت کی تمام سفارتی کاوشوں کی حمایت کرتی ہے اور پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
انہوں نے اٹھارہویں ترمیم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم منتظر تھے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے، لیکن ایک مخصوص جاگیردارانہ سوچ رکھنے والی جماعت عوامی اختیارات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں ڈمپرز کی ٹکر سے اموات پر ایم کیو ایم کا شدید احتجاج
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وزیر اعظم کا ساتھ دینے کے لیئے کچھ نہیں مانگا، اٹھائیسویں ترمیم فوری طور پر لائی جائے اور آرٹیکل ایک سو چالیس اے کو مؤثر بنایا جائے۔ ملک میں بااختیار بلدیاتی نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق ستار نے مطالبہ کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت کا خاتمہ کر کے ایک مکمل بااختیار بلدیاتی نظام قائم کیا جائے تاکہ ہر شہری کو اپنی دہلیز پر فیصلے کرنے کا حق ملے۔
مصطفیٰ کمال نے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ تشویشناک صورتحال میں پاکستان کا پورا نظام محض چار وزراء کے ہاتھوں میں ہے، جبکہ جنگی حالات میں ضلعی انتظامیہ کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے بلدیاتی اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ کسی بھی بحران کی صورت میں عوام کی فوری مدد ممکن ہو سکے۔
ایم کیو ایم رہنماؤں نے اتحاد اور آئینی تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کے حصے کا اختیار دینا ہی ملک کی بقا کی ضمانت ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










