جمعرات، 26-مارچ،2026
جمعرات 1447/10/07هـ (26-03-2026م)

کم عمری کی شادی پر سزا ہو سکتی ہے پر نکاح ختم نہیں ہوتا، آئینی عدالت کا فیصلہ

26 مارچ, 2026 15:07

وفاقی آئینی عدالت نے ماریہ بی بی کے کیس میں اہم قانونی نکتہ واضح کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت شادی پر سزا تو ہو سکتی ہے مگر نکاح ختم نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی آئینی عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کے مسلمان لڑکوں سے نکاح اور قبول اسلام کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور دور رس نتائج کا حامل فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کا قبول اسلام اور شہریار نامی لڑکے کے ساتھ نکاح کو قانونی طور پر درست تسلیم کر لیا ہے۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کرنے کے اہل ہیں اور ماریہ بی بی نے نکاح سے قبل اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا تھا، جس کا دستاویزی ثبوت یعنی ڈیکلیریشن بھی موجود ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر قانون میں صرف فوجداری سزا کا تذکرہ موجود ہے، لیکن اس پورے قانون میں کہیں بھی یہ ذکر موجود نہیں کہ کم عمری میں کیا گیا نکاح ختم تصور ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : افغان طالبان کا پاکستان مخالف مظاہروں میں کم عمر بچوں کا زبردستی استعمال

عدالت نے ماریہ بی بی کے والد کی جانب سے دائر حبس بے جا کی درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ماریہ نے عدالت میں واضح بیان دیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اور اسے اغوا نہیں کیا گیا، لہٰذا ایسی درخواست میں دارالافتاء کی دستاویزات کی درستگی کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا۔

فیصلے میں عدالت کی بالادستی کے حوالے سے بھی اہم نکات درج کئے گئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم سپریم کورٹ نہیں بلکہ وفاقی آئینی عدالت ہی ہے اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں آئینی عدالت کا حکم ماننے کی پابند ہیں۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ سپریم کورٹ کے وضع کردہ ان اصولوں یا نظیروں کو ماننے کی پابند نہیں جو آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔

ماریہ کے والد کی جانب سے بیٹی کے کم عمر ہونے کی بنیاد پر دائر تمام درخواستیں اب آئینی عدالت سے حتمی طور پر خارج ہو چکی ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔