اسلام آباد مذاکرات؛ وہ تین بڑے تنازعات جن کے باعث امریکہ ایران معاہدہ نہ ہو سکا

اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ اور ایران کے تاریخی مذاکرات میں حتمی معاہدہ نہ ہونے کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یورینیم کی افزودگی، ذخیرہ شدہ یورینیم کی واپسی اور آبنائے ہرمز کا کنٹرول وہ تین بنیادی نکات تھے، جن پر فریقین کے درمیان شدید ڈیڈ لاک پیدا ہوا اور جے ڈی وینس اپنی شرائط بتا کر واپس روانہ ہو گئے۔
اسلام آباد میں اکیس گھنٹوں پر محیط طویل سفارتی کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک نہ پہنچنے کی اندرونی وجوہات سامنے آگئیں ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذاکرات میں پہلا بڑا ڈیڈ لاک اس وقت پیدا ہوا، جب امریکی وفد نے مطالبہ کیا کہ ایران یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر یعنی زیرو فیصد پر لے آئے۔
امریکہ کا دوسرا بڑا مطالبہ یہ تھا کہ ایران اپنے پاس موجود 440 کلو گرام افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کر دے۔ امریکہ کا یہ مطالبہ دراصل اپنی فیس سیونگ کے لیے تھا تاکہ وہ دنیا کو یہ دکھا سکے کہ وہ مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی کے ساتھ لوٹا ہے۔ اس کے بدلے میں واشنگٹن ایران پر لگی تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور منجمد اثاثے بحال کرنے کے لیے بھی تیار تھا۔
ایرانی وفد نے امریکی مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنا افزودہ یورینیم کسی صورت امریکہ کے حوالے نہیں کریں گے، بلکہ اگر ضرورت پڑی تو اسے خود ضائع کر دیں گے۔
ایران کا سب سے بڑا اعتراض یورینیم افزودگی کو صفر پر لانے کے مطالبے پر تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اسے سول نیوکلیئر پروگرام کے لیے کم از کم تین اعشاریہ چھ سے پانچ فیصد تک یورینیم افزودگی کا بنیادی حق حاصل ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات طے، جلد اعلان ہوگا، پاکستان و دیگر ضامن ہوں گے، ذرائع کا دعویٰ
اس موقع پر امریکی وفد نے یہ منطق پیش کی کہ ایران جیسے ملک کو، جس کے پاس اگلے سو سالوں کے لیے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہوں، سول نیوکلیئر توانائی کی کیا ضرورت ہے؟
امریکیوں کے مطابق ایٹمی توانائی کی ضرورت ان ممالک کو ہوتی ہے، جن کے پاس قدرتی ایندھن نہ ہو۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو گزشتہ سینتالیس سال سے دونوں ملکوں کے درمیان چلا آ رہا ہے اور اسلام آباد کی ایک رات میں بھی حل نہ ہو سکا۔
تیسرا اور سب سے اہم ڈیڈ لاک آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر پیدا ہوا۔ امریکہ کا مطالبہ تھا کہ آبنائے ہرمز پر ایک جوائنٹ ٹاسک فورس بنائی جائے، جو اس عالمی آبی گزرگاہ کی نگرانی کرے۔
پاکستان نے بھی اس حوالے سے ایران کو جوائنٹ کنٹرولنگ کی تجویز دی تاکہ تعطل ختم ہو سکے، لیکن ایران نے اسے اپنا سب سے بڑا ترپ کا پتہ قرار دیتے ہوئے سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔
ایران کا خیال ہے کہ اگر آج انہوں نے آبنائے ہرمز کا اختیار چھوڑ دیا تو کل کو امریکہ یا اسرائیل کے ممکنہ حملے کی صورت میں ان کے پاس دفاع کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔
دوسری جانب امریکہ کسی صورت ایران کے ہاتھ میں اتنا بڑا وائلڈ کارڈ چھوڑنے کو تیار نہیں۔ ان تین بڑے اختلافات کے باعث مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنی آخری شرائط سنا کر واپس روانہ ہو گئے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










