ہنگو میں انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ، ایک اہلکار شہید، دو دہشتگرد بھی مارے گئے

ہنگو میں پولیو مہم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کی گاڑی پر دہشت گردوں نے بزدلانہ حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک پولیس جوان شہید اور چار زخمی ہو گئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں دو دہشت گردوں بھی ہلاک ہوئے۔
خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو میں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر دہشت گردوں نے حملہ کر کے ایک بار پھر ملک میں امن و امان کی صورتحال کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ تحصیل ٹل کے علاقے چھپری وزیران میں اس وقت پیش آیا، جب پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے والی پولیس وین وہاں سے گزر رہی تھی۔
گھات لگائے شرپسندوں نے اچانک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے جواب میں پولیس جوانوں نے بھی فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی۔
فائرنگ کے اس شدید تبادلے میں ایک پولیس اہلکار شہید جبکہ چار اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کوئٹہ میں فائرنگ سے ہزارہ برادری کے دو افراد جاں بحق، تین زخمی
ترجمان پولیس کے مطابق شہید ہونے والے پولیس اہلکار اسرار الحق کا تعلق شانگلہ سے تھا اور وہ پولیس ٹریننگ سینٹر میں انٹرمیڈیٹ کورس کر رہے تھے، تاہم ڈیوٹی کی پکار پر وہ محاذ پر موجود تھے۔
ڈی آئی جی کوہاٹ عرفان طارق نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس جوانوں نے کمال بہادری کا مظاہرہ کیا اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کی جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں، تاہم ان کے فرار ہونے والے ساتھی اپنے ہلاک شدگان کی لاشیں ساتھ لے جانے میں کامیاب رہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع ہنگو میں ہونے والے اس حملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قومی فریضے پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ فعل ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








