چیمپئنز ٹرافی میں سابق چیمپیئن پاکستان کے ساتھ کیا غلط ہوا؟

چیمپئنز ٹرافی میں سابق چیمپیئن پاکستان کے ساتھ کیا غلط ہوا؟
چیمپئنز ٹرافی کے گروپ مرحلے میں نیوزی لینڈ اور روایتی حریف بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد ٹائٹل ہولڈر اور میزبان پاکستان ٹورنامنٹ سے بُری طرح باہر ہوا۔
قومی ٹیم کو اب بھی جمعرات کو بنگلہ دیش کے خلاف ایک میچ کھیلنا ہے لیکن ان کا ٹورنامنٹ ختم ہو چکا ہے جو تین دہائیوں میں کسی بڑے بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی کا مایوس کن اختتام ہے۔
رضوان کو گزشتہ سال اکتوبر میں وائٹ بال ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا اور ان کی قیادت میں پاکستان نے عالمی چیمپیئن آسٹریلیا کے خلاف ایک روزہ میچوں میں 2-1 سے شاندار فتح حاصل کی تھی۔
انہوں نے زمبابوے میں بھی کامیابی حاصل کی اور جنوبی افریقہ کو 3-0 سے شکست دے کر اپنا وائٹ واش کیا۔
لیکن تیزی سے ابھرتے ہوئے اوپنر صائم ایوب کو جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ کے دوران ٹخنے میں چوٹ لگ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پہنچنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں
پاکستان نے چیمپئنز ٹرافی کے اسکواڈ کا اعلان صائم ایوب کی فٹنس کا انتظار کرنے کے لیے ڈیڈ لائن تک موخر کیا لیکن بائیں ہاتھ کا یہ بلے باز صحت یاب ہونے میں ناکام رہا۔
میزبان ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے ساتھی اوپنر فخر زمان پٹھوں کی انجری کی وجہ سے پہلے میچ کے بعد ٹورنامنٹ کے بقیہ میچوں سے باہر ہوگئے تھے۔
گرین شرٹس کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف کو ٹیسٹ سیریز میں آرام دیا گیا اور وہ ڈیتھ اوورز پر قابو پانے میں ناکام رہے۔
ناقص اسکواڈ کا انتخاب
سلیکٹرز نے سابق کھلاڑیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے 15 رکنی اسکواڈ میں دوسرے اسپنر کو شامل کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی اور صرف اسکواڈ میں محض ابرار احمد کو جگہ دی گئی۔
پی سی بی نے پارٹ ٹائم اسپنرز سلمان آغا اور خوشدل شاہ پر انحصار کیا جنہوں نے دو میچوں میں صرف ایک وکٹ حاصل کی۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی؛ گروپ اے سے کونسی ٹیمیں سیمی فائنل کھیلیں گی؟
پاکستان نے باقاعدہ اوپنر کا انتخاب نہ کر کے غلطی کی اور خراب فارم میں موجود بابر اعظم کو فخر زمان کا پارٹنر بنانے کا خطرناک قدم اٹھایا۔
جب فخر زمان ٹورنامنٹ سے باہر ہوئے تو انہوں نے امام الحق کو متبادل کے طور پر ٹیم میں شامل کیا جنہوں نے بھارت کے خلاف صرف 10 رنز بنائے اور اس میچ میں پاکستان کو ٹائٹل کے فیورٹ بھارت نے چھ وکٹوں سے شکست دی۔
بنگلہ دیش کی ٹی ٹوئنٹی لیگ میں کارکردگی کی بنیاد پر آل راؤنڈر خوشدل شاہ اور فہیم اشرف کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا تھا۔
فہیم اشرف نے دو سال اور خوشدل شاہ نے تین سال سے کوئی ون ڈے میچ نہیں کھیلا تھا۔
سابق کپتان راشد لطیف نے ٹیم سلیکشن کو ‘سیاسی انتخاب’ قرار دیتے ہوئے بیرونی اثر و رسوخ کو مورد الزام ٹھہرایا۔
پرانے طرز کی کرکٹ
سابق کپتان اور مقبول آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے پاکستان پر فرسودہ کرکٹ کھیلنے کا الزام عائد کردیا۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ 2025 میں پاکستان 1980 اور 1990 کی دہائی کے کرکٹ اسٹائل میں کھیل رہا ہے جبکہ دیگر ٹیموں نے جارحانہ اور جدید انداز اپنانے کے لئے اچھی پیش رفت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت سے شکست کے بعد پاکستان چیمپئنز ٹرافی سے باہر ہوگیا؟ رضوان نے بتادیا
شاہد آفریدی نے کہا کہ بہت زیادہ ڈاٹ گیندیں کھیلنے کی بیماری نے بھی ہمارے کھیل کو نقصان پہنچایا۔
پاکستان نے بھارت کے خلاف 152 ڈوٹ گیندوں پر 49.4 اوورز میں 241 رنز بنائے، جس میں ریکارڈ 28 گیندیں بھی شامل تھیں جن میں پہلے چھ اوورز میں کوئی اسکور نہیں بنایا گیا۔
نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست میں ان کا مجموعی اسکور 47.2 اوورز میں 260 رنز تھا۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی ذہنیت جدید دور کی کرکٹ سے میل نہیں کھاتی، لہٰذا ہمیں نظام میں مکمل تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ہم جارحانہ ذہنیت کے حامل کھلاڑی پیدا کرسکیں۔
Catch all the کھیل News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












