جمعہ، 6-فروری،2026
جمعہ 1447/08/18هـ (06-02-2026م)

بنگلا دیش کے ورلڈ کپ سے اخراج پر بھارتی صحافی کی بی سی سی آئی اور آئی سی سی پر شدید تنقید

28 جنوری, 2026 20:27

بنگلا دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہونے اور پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے امکان پر بھارتی صحافی شاردا اگرا نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

شاردا اگرا کا کہنا ہے کہ آئی سی سی اب ایک آزاد عالمی ادارہ نہیں رہا بلکہ اس کا دفتر عملی طور پر بی سی سی آئی کے دبئی آفس میں تبدیل ہو چکا ہے، جس کے باعث آئی سی سی وہی فیصلے کرتی ہے جو بھارتی کرکٹ بورڈ چاہتا ہے۔ ان کے مطابق آئی سی سی کے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں بھی یہی صورتحال واضح نظر آئی۔

بھارتی صحافی نے کہا کہ ورلڈ کپ سے جڑا موجودہ معاملہ نہایت غیر سنجیدہ اور بھونڈے انداز میں ہینڈل کیا گیا، جس سے آئی سی سی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے بقول یہ تمام صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بنگلا دیشی کھلاڑی مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالا گیا، جبکہ پاکستان کا اس معاملے میں شامل ہونا ماضی میں بھارت کے رویے کا ردعمل ہو سکتا ہے۔

شاردا اگرا نے مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کو ایک سیاسی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی سی سی آئی براہِ راست بھارتی حکمرانوں سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی ٹیم کو پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے کس نے روکا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ سے دستبردار ہوتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان آئی سی سی کو ہوگا، کیونکہ پاک بھارت میچ سے سب سے زیادہ آمدن حاصل ہوتی ہے۔

شاردا اگرا کے مطابق موجودہ بحران کی ایک بڑی وجہ بھارت کا آئی سی سی اور دیگر کرکٹ بورڈز پر اثر و رسوخ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بنگلا دیش کو بھارت کا دورہ کرنے میں مسائل پیش آئے تو اچانک آئی سی سی کو ٹورنامنٹ کے قوانین یاد آ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میں آج کی صورتحال بھارت کی مالی طاقت کا نتیجہ ہے۔ جے شاہ کے آئی سی سی چیئرمین بننے کے بعد ایک بھارتی کو ہی سی سی او مقرر کیا گیا، جبکہ اگر کسی دوسرے ملک کا سی ای او ہوتا تو شاید اس صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالا جاتا۔

بھارتی صحافی نے کہا کہ کرکٹ جو کبھی مشترکہ ثقافت اور کھیل کا ذریعہ تھی، اب سیاسی لڑائی کا میدان بن چکی ہے، جہاں بھارت کرکٹ کے ذریعے اپنے پڑوسی ممالک کو جواب دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بنگلا دیش کو بھارت جیسی سہولیات اس لیے نہیں ملیں کیونکہ اس کا اتنا اثر و رسوخ نہیں ہے۔

شاردا اگرا کا کہنا تھا کہ آئی سی سی اب ایک سنجیدہ اسپورٹس باڈی نہیں رہی۔ اگر واقعی کوئی غیر جانبدار اور ذمہ دار ادارہ ہوتا تو اسے احساس ہوتا کہ اس پورے معاملے کو بری طرح مس ہینڈل کیا گیا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مقصد کھیل کے طور پر ایونٹ کرانا نہیں بلکہ سیاسی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور آئی سی سی نے کروڑوں شائقین کی نمائندہ ٹیم کو ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کے کرکٹ بورڈز بھی بی سی سی آئی کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں، کیونکہ اگر بنگلا دیش کے مطالبات تسلیم کر لیے جاتے تو بھارتی کرکٹ بورڈ کی انا کو ٹھیس پہنچتی۔

Catch all the کھیل News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔