بھارتی اجارہ داری اور آئی سی سی کے دوہرے معیار کے سامنے پاکستانی دیوار

جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی کے لیے نجم سیٹھی کے بجائے محسن نقوی کا انتخاب کیا تو اس فیصلے کو بعض حلقوں میں تنقیدی نگاہ سے دیکھا گیا۔ نجم سیٹھی کے ساتھ حکومتی قیادت کے خوشگوار تعلقات کے پیشِ نظر یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایسے فرد کو چیئرمین کیوں بنایا گیا جسے کرکٹ کے انتظامی معاملات کا براہِ راست تجربہ نہیں۔ تاہم بعض ذرائع کے مطابق اس تقرری کے پس منظر میں روایتی کرکٹ انتظامیہ سے ہٹ کر ایک وسیع تر تناظر کارفرما تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی ساز حلقوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ جدید دور میں کرکٹ محض کھیل نہیں رہی بلکہ علاقائی سیاست اور جیو پولیٹکس کا حصہ بن چکی ہے۔ ایسے ماحول میں بورڈ کی سربراہی کے لیے ایسے شخص کی ضرورت محسوس کی گئی جو انتظامی صلاحیت کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی دباؤ کو بھی سنبھال سکے، خصوصاً اس تناظر میں کہ بھارتی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ نے ماضی میں اپنے اثر و رسوخ کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا ہے۔
پاکستان میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ وزیر داخلہ کو ہی کرکٹ بورڈ کا چیئرمین کیوں بنایا گیا جبکہ دونوں عہدوں میں بظاہر کوئی تعلق نہیں۔ تاہم مبصرین اس کی مثال بھارت سے دیتے ہیں جہاں کرکٹ بورڈ کی قیادت بھی بااثر سیاسی شخصیات کے زیر اثر رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کرکٹ اور سیاست کا باہمی تعلق غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
چیمپیئنز ٹرافی کے موقع پر بھارت کی جانب سے حسبِ روایت پاکستان آنے سے انکار کے بعد یہ تاثر تھا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی میچز ہائبرڈ ماڈل کے تحت کسی تیسرے مقام پر منتقل ہو جائیں گے۔ عملی طور پر ایسا ہوا بھی، مگر ذرائع کے مطابق اس بار ایک اہم فرق یہ تھا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر واضح اور سخت مؤقف اختیار کیا۔ پاکستان نے ہائبرڈ ماڈل کو فوری طور پر تسلیم کرنے کے بجائے بھارت سے تحریری یقین دہانی حاصل کی کہ آئندہ ایشیا کپ اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو اپنے میچز بھارت میں کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت ایک نسبتاً چھوٹے بورڈ کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک لحاظ سے اہم تھی، جس کے نتیجے میں ایشیا کپ کے انعقاد کے حوالے سے تبدیلیاں سامنے آئیں اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے شیڈول میں بھی رد و بدل ہوا۔ اس تمام پیش رفت میں پاک بھارت میچ کی غیر معمولی اہمیت بنیادی عنصر کے طور پر سامنے آئی۔ آئی سی سی کی مالیات، نشریاتی حقوق اور بھارتی براڈکاسٹرز کی دلچسپی کا بڑا انحصار اسی میچ پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس مقابلے کی حیثیت محض کھیل سے بڑھ کر تجارتی اور سفارتی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان آئی پی ایل سے متعلق جو تنازع سامنے آیا، جس پر بنگلہ دیشی حکام نے بھی ورلڈ کپ کے میچز سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد آئی سی سی کے فیصلوں نے تنازع کو مزید بڑھایا اور اس صورتحال میں پاکستان نے ایک مختلف حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ طے شدہ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ اس اعلان نے نہ صرف بنگلہ دیش کے مؤقف کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا بلکہ آئی سی سی اور بھارتی کرکٹ حلقوں پر بھی دباؤ بڑھایا۔
یہ فیصلہ جذباتی ردعمل کے بجائے تفصیلی مشاورت، قانونی پہلوؤں کے جائزے اور ممکنہ نتائج کے تجزیے کے بعد کیا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اندازہ ہے کہ ایسے فیصلے کے مالی اور قانونی مضمرات ہو سکتے ہیں، تاہم متعلقہ ماہرین اور قانونی ٹیم اس حوالے سے تیاری کر چکی ہے۔
اس پیش رفت کے نتیجے میں عالمی سطح پر کرکٹ میں سیاست کے کردار، ریونیو شیئرنگ، اور آئی سی سی کی پالیسیوں پر نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مذاکرات میں پاکستان ریونیو شیئر، پالیسی اصلاحات اور غیر جانبدارانہ طرزِ عمل جیسے نکات کو اٹھا سکتا ہے۔
یہ معاملہ محض ایک میچ یا ایک سیریز تک محدود نہیں بلکہ اس کے دور رس اثرات عالمی کرکٹ کے انتظامی ڈھانچے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں یہ ایک جرات مندانہ اور اسٹریٹجک فیصلہ ہے، جس پر آئندہ دنوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔
Catch all the کھیل News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












