بدھ، 14-جنوری،2026
بدھ 1447/07/25هـ (14-01-2026م)

حکومت کا آسان قسطوں پر 5 جی موبائل فراہم کرنے کا اعلان؛ درخواست دینے کا آسان طریقہ جان لیں

03 جنوری, 2026 11:12

حکومت نے ٹیلی کام اور انٹرنیٹ صارفین کے لیے کئی اہم اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔

 وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے لیے خوشخبریاں ہیں اور انٹرنیٹ سے جڑے مسائل کے حل پر سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی اگلے ماہ کی جائے گی، جبکہ ملک میں آسان اقساط پر فائیو جی اسمارٹ فونز فراہم کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ انٹرنیٹ بندش کے مسائل کم کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے تعاون سے مؤثر اقدامات کیے گئے۔ اس وقت پورا ملک 274 میگا ہرٹز اسپیکٹرم پر کام کر رہا ہے، جو ڈیجیٹل ضروریات کے لیے محدود ہے۔ اسی کمی کو پورا کرنے کے لیے فائیو جی نیلامی کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی کابینہ فائیو جی اسپیکٹرم نیلامی کی منظوری دے چکی ہے۔ نیلامی کے عمل میں سات مختلف بینڈز شامل ہوں گے، جن میں سے پانچ نئے بینڈز مارکیٹ میں متعارف کروائے جائیں گے۔ ہر بینڈ کی اپنی رفتار اور صلاحیت ہوگی، جس سے صارفین کو بہتر سروس مل سکے گی۔ ان کے مطابق نیلامی شفاف اور بہتر شرائط پر کروائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ ملک کی معاشی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان فری لانسرز کی بدولت دنیا کی چوتھی بڑی ڈیجیٹل اکانومی بن چکا ہے۔ وزیراعظم اور وزارت خزانہ کی مکمل حمایت سے یہ اقدامات ممکن ہو رہے ہیں۔ فائیو جی نیلامی کے تین سے چار ماہ بعد فور جی سروس میں بھی واضح بہتری نظر آئے گی، جبکہ ابتدائی چھ ماہ میں بڑے شہروں میں فائیو جی سروس شروع کر دی جائے گی۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ کابینہ نے ایم وی این او پالیسی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس پالیسی کے تحت نئی کمپنیاں موجودہ نیٹ ورکس استعمال کر کے اپنی سروس فراہم کر سکیں گی۔ اس سے مقابلہ بڑھے گا، نئے برانڈز آئیں گے اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سو سے زائد ممالک میں ہزاروں ایم وی این او کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔

وفاقی وزیر کے مطابق پی ٹی اے نے ضلعی سطح پر انٹرنیٹ لائسنس جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اب دیہات اور قصبوں کے کیبل آپریٹرز بھی لائسنس حاصل کر سکیں گے۔ فائبرائزیشن کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں نے رائٹ آف وے چارجز بھی ختم کر دیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تین نئی سب میرین کیبلز لینڈ ہو چکی ہیں، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور استحکام بہتر ہوگا۔

شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسز بہت زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود فی صارف آمدن کم اور انٹرنیٹ دنیا کے سستے ترین ممالک میں شامل ہے۔ روپے کی قدر میں کمی سے آپریٹرز کے اخراجات بڑھے ہیں، تاہم اس کے باوجود ملک میں انٹرنیٹ استعمال میں 25 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔